اسرائیل (لارڈ میڈیا): اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت نے فلسطینی قیدیوں کی نگرانی کے لیے جنوبی اسرائیل کی کتزیعوت جیل کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندق بنانے کے منصوبے پر پیش رفت شروع کر دی ہے۔ یہ تجویز اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے پیش کی تھی، جو امریکہ کے متنازع حراستی مرکز ایلیگیٹر الکاٹراز سے متاثر ہیں۔
اس منصوبے کے تحت اسرائیلی حکومت نے نائل مگرمچھ کا محفوظ جنگلی جانور کا درجہ ختم کر دیا ہے۔ ماحولیاتی امور کی وزیر ایدیت سلمن نے مگرمچھوں کی قانونی درجہ بندی تبدیل کرتے ہوئے انھیں خصوصی انتظام کے تحت جنگلی جانور قرار دیا ہے، جس سے سیکیورٹی مقاصد کے لیے ان کا استعمال ممکن ہو گیا ہے۔
فلسطینی قیدیوں کی تنظیم فلسطینی پرزنرز سوسائٹی کے سربراہ عبداللہ الزغاری نے کہا کہ جیلوں کے گرد خندق بنانے کی تجویز فلسطینی قیدیوں کو خوفزدہ کرنے اور ان کی تذلیل کرنے کی نئی شکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تجویز کا مقصد قیدیوں کو بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے تحفظ سے محروم کرنا ہے۔
تنظیم کے عہدیدار مظفر زوقان نے کہا کہ یہ اقدام فلسطینی قیدیوں کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالے گا، کیونکہ وہ پہلے ہی سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ امانی سرحنہ نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے خلاف نفسیاتی دباؤ کے مختلف طریقے برسوں سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے پر عمل درآمد کیا گیا تو یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور جنیوا کنونشن کے اصولوں پر سنگین سوالات اٹھائے گا۔ فلسطینی تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تجویز کو روکنے کے لیے فوری کردار ادا کرے۔


