پیرس (شِنہوا) چینی سائنسدان پان جیان وے بنیادی سائنسز کے شعبے میں یونیسکو-روس مینڈیلیف بین الاقوامی انعام حاصل کرنے والے پہلے چینی سائنسدان بن گئے ہیں۔ انہیں یہ اعزاز بڑے پیمانے پر محفوظ کوانٹم مواصلات اور توسیع پذیر کوانٹم کمپیوٹنگ میں ان کی نمایاں اور پیشرو خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
اعزاز دینے کی تقریب پیرس میں یونیسکو کے صدر دفتر میں منعقد ہوئی۔
یونیسکو کے مطابق پان جیان وے چین کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کوانٹم آپٹکس، کوانٹم مواصلات اور کوانٹم کمپیوٹنگ کے عالمی شہرت یافتہ ماہر ہیں۔ ان کی ٹیم نے میشیئس نامی سیٹلائٹ تیار کیا جس کی بدولت ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے تک محفوظ طریقے سے معلومات کی ترسیل اور کوانٹم ٹیکنالوجی کے ذریعے معلومات کی محفوظ منتقلی ممکن ہوئی۔ ان کی ٹیم نے کوانٹم کمپیوٹنگ کی برتری بھی ثابت کی جس سے عالمی کوانٹم نیٹ ورک کا تصور عملی حقیقت کے قریب پہنچ گیا۔
چین نے اگست 2016 میں دنیا کا پہلا کوانٹم سیٹلائٹ خلا میں بھیجا۔ اس سیٹلائٹ کا نام کوانٹم ایکسپیریمنٹس ایٹ سپیس سکیل (کیو یو ای ایس ایس) تھا جبکہ اسے قدیم چینی فلسفی کے نام پر”میشیئس” بھی کہا جاتا ہے۔
اس سیٹلائٹ کی کامیاب تنصیب کے بعد چینی سائنس دانوں نے آئندہ برسوں میں سیٹلائٹ سے زمین تک کوانٹم کلید کی تقسیم اور زمین سے سیٹلائٹ تک کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کے کامیاب تجربات بھی انجام دیئے۔
اس سال اس انعام کے دوسرے فاتح سرگئی ایس شیکو ہیں، جو یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا ایٹ چیپل ہل میں جارج اے بش جونیئر کے نام سے منسوب ممتاز پروفیسر برائے کیمیا ہیں۔ انہیں بنیادی پولیمر طبیعیات اور مٹیریلز سائنس کے شعبوں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا گیا۔
2019 میں قائم کیا گیا یونیسکو-روس مینڈیلیف بین الاقوامی انعام برائے بنیادی علوم سائنسی ترقی، سائنسی تعلیم اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لئے دیا جاتا ہے۔
یہ انعام دمتری مینڈیلیف کے نام سے منسوب ہے، جنہیں پیریاڈک ٹیبل کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ یہ انعام ہر سال بنیادی علوم میں ایسی انقلابی دریافتوں یا نمایاں اختراعات پر دو افراد کو دیا جاتا ہے جن کے نمایاں سماجی اور معاشی اثرات ہوں۔ فاتحین کا انتخاب 7 ممتاز سائنس دانوں پر مشتمل بین الاقوامی جیوری کی سفارش پر کیا جاتا ہے۔


