نئی دہلی (لارڈ میڈیا) بھارتی خلائی ایجنسی اسرو کے 100 سے زائد تجربہ کار سائنس دانوں کے استعفوں نے ایجنسی کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سائنس دانوں کے جانے کی بڑی وجہ نجی شعبے کی جانب سے دی جانے والی مراعات اور کام کا دباؤ ہے۔
خلائی تحقیق میں نجی کمپنیاں اور اسٹارٹ اپس تجربہ کار سائنس دانوں کو سرکاری ملازمت سے زیادہ تنخواہیں اور سہولیات فراہم کر رہی ہیں جو استعفے کی بڑی وجہ بن رہی ہیں۔
اس دباؤ کی ایک اور وجہ گگن یان اور چندریان جیسے بڑے ملکی مشنز ہیں، جن کے باعث سائنس دان ذہنی سکون اور ذاتی زندگی کے لیے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
حکومت نے استعفوں کے قوانین کو سخت کر دیا ہے تاکہ سائنس دان آسانی سے نوکری نہ چھوڑ سکیں۔ اب استعفے کی حتمی منظوری حکومت کے مرکزی محکمے سے لی جائے گی۔
اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے کہا ہے کہ ملازمین کا آنا جانا معمول کا حصہ ہے اور ایجنسی اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اہم منصوبے متاثر نہیں ہوں گے۔
اگرچہ اسرو میں 14,600 سے زائد ملازمین ہیں، لیکن 100 سائنس دانوں کا استعفیٰ ان کی تجربہ کاری کی وجہ سے تشویشناک ہے۔ نئے سائنس دانوں کی بھرتی جاری ہے، مگر تجربہ کار ماہرین کو روکنا بڑا چیلنج ہے۔


