واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو خبردار کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر، مذاکرات کے دوران مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں گزشتہ ماہ ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی حکام نے امریکی نائب صدر کو آگاہ کیا کہ وٹکوف اور کشنر کی موجودگی سے دائمی ڈیل نہیں ہو سکے گی کیونکہ یہ دونوں معاشی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق، ہیرا پھیری کے ذریعے جمع کی گئی رقم کی مالیت جون تک 9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی حکام کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام نے یہ بھی اعتراض کیا تھا کہ وٹکوف اور کشنر اہم امور سے اسرائیلی وزیراعظم کو مسلسل آگاہ کر رہے ہیں۔
امریکی اہلکار نے بتایا کہ مذاکرات کے آغاز سے وٹکوف اور کشنر تقریباً روزانہ اسرائیلی وزیراعظم اور موساد کے سربراہ سے بات کرتے ہیں۔ ایرانی حکام نے امریکی صدر کے لیے ثالثوں کو تحریری دستاویزات بھی فراہم کی تھیں جن میں کہا گیا کہ ٹرمپ کے قریبی افراد فنانشل مارکیٹ میں کارستانیاں کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے یہ رپورٹ ایرانی پروپیگنڈا قرار دی ہے۔ تاہم، نائب صدر کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی کہ ایرانیوں نے وٹکوف اور کشنر کی موجودگی پر اعتراض کیا تھا۔ ایرانی حکام نے یہ بھی کہا تھا کہ وٹکوف سفارتکاری سے ناواقف تھے اور انہوں نے ایرانی مؤقف کو غلط طور پر پیش کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، ایرانی حکام چاہتے ہیں کہ مذاکراتی ٹیم میں اہلکاروں کی تعداد بڑھائی جائے۔ مزید برآں، امریکی میڈیا کے مطابق قازقستان کے صدر آج باضابطہ طور پر اعلان کریں گے کہ ان کا ملک ابراہام معاہدے میں شامل ہو رہا ہے۔


