لاہور (لارڈ میڈیا) اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز نے افغان طالبان کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں قانونی مقدمے کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اس مقدمے کے تحت طالبان کو خواتین کے حقوق کے کنونشن 2003 کی سنگین خلاف ورزیوں پر عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کی صدر بنائیفر نورو جی نے کہا ہے کہ اگست 2021 میں اتحادی افواج کے انخلا کے بعد، طالبان نے خواتین کے خلاف 100 سے زائد غیر قانونی احکامات جاری کیے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ افغان خواتین پر محرم کے بغیر باہر نکلنے، نوکری کرنے اور چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر سخت پابندیاں ہیں۔
اقوام متحدہ اور یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے افغانستان کی اس صورتحال کو صنفی امتیاز قرار دیا ہے۔ آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی اور نیدرلینڈز کے ستمبر 2024 کے قانونی نوٹس کے بعد یہ کیس طالبان پر دباؤ ڈالنے کا اہم ذریعہ ہوگا۔
صدر اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کے مطابق، اقوام متحدہ کی قانونی چارہ جوئی اور مستقل عالمی دباؤ، افغان خواتین کے حقوق کی بحالی اور ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کا فیصلہ کن ہتھیار ہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق، افغانستان میں نافذ سخت گیر قوانین نے عام عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے جہاں خواتین اور لڑکیاں بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت انصاف میں طالبان رجیم کے خلاف قانونی چارہ جوئی ان پر سیاسی و سفارتی دباؤ بڑھائے گی اور ان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچائے گی۔


