نئی دہلی (لارڈ میڈیا): بھارت کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کڈنکولم کا حساس ڈیٹا ہیکرز نے انٹرنیٹ پر لیک کردیا ہے، جس سے پلانٹ کی سکیورٹی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ رینسم ویئر گروپ ورلڈ لیکس نے یہ ڈیٹا ڈارک ویب پر شائع کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، لیک ہونے والے ڈیٹا میں پلانٹ کے کچھ حصوں کے نقشے، سپلائرز کی تفصیلات، اجلاسوں اور معائنوں کا ریکارڈ شامل ہیں۔ ہیکرز نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معلومات ریلائنس گروپ سے حاصل کی گئی ہیں۔
کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارتی ریاست تمل ناڈو میں واقع ہے اور یہ بھارت کے جوہری توانائی کے منصوبے کا اہم جزو ہے۔ بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کے ریلائنس گروپ کے تحت اس پلانٹ کا ٹھیکہ ہے۔
ریلائنس گروپ نے بتایا ہے کہ ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کرنے والی کمپنی یوٹا کے سرور پر ان کے ڈیٹا میں جزوی دراندازی ہوئی ہے اور حکومت کو اس بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے متاثرہ ڈیٹا کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
نیوکلیئر تھریٹ انیشیٹو کے نکولس روتھ نے کہا کہ یہ ڈیٹا پلانٹ کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ورلڈ لیکس نے پہلے بھی متعدد بڑی کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ڈیٹا غلط ہاتھوں میں چلا جائے تو پلانٹ کے معاون نظاموں کا نقشہ بنایا جا سکتا ہے اور سکیورٹی میں موجود کمزوریوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔


