بیجنگ (شِنہوا) چین میں 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران اشیاء اور خدمات کی مجموعی پرچون فروخت، جو ملکی صارفین کی طلب اور قوت خرید کا ایک اہم اشاریہ ہے، گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 2.7 فیصد بڑھ گئی۔
چین کے قومی ادارہ شماریات (این بی ایس) کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں خدمات کی پرچون فروخت میں 5.3 فیصد جبکہ اشیاء کی پرچون فروخت میں 1.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
قومی ادارہ شماریات کے نائب سربراہ ماؤ شینگ یونگ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معیار زندگی میں بہتری کے ساتھ خدمات پر مبنی کھپت صارفین کی طلب کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کا ایک اہم شعبہ بنتی جا رہی ہے۔
قومی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدمات کے شعبے میں مواصلاتی اور معلوماتی خدمات، سیاحتی مشاورتی اور لیزنگ خدمات، نیز ثقافتی، کھیلوں اور تفریحی خدمات کی کھپت میں نمایاں اور تیز رفتار اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں اشیائے صرف کی مجموعی پرچون فروخت، جس میں مادی اشیائے صرف کی فروخت کے ساتھ ساتھ کیٹرنگ کی خدمات سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہے، 248.7 کھرب یوآن (تقریباً 36.6 کھرب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی نسبت 1.3 فیصد زائد ہے۔


