بیجنگ (شِنہوا) جنوب مغربی چین کی چھونگ چھنگ بلدیہ میں قائم ایک زچہ و بچہ ہسپتال میں حاملہ خواتین ابتدائی حمل کی دیکھ بھال کے کلینک میں قبل از پیدائش کے پہلے معائنے کرا رہی ہیں۔
یہ کلینک حمل کے ابتدائی 14 ہفتوں کے دوران خواتین کو طبی معاونت، نفسیاتی مشاورت اور صحت سے متعلق رہنمائی سمیت متعدد خدمات فراہم کرتا ہے، اس کا مقصد ان کی پریشانیاں کم کرنا اور حمل و زچگی کے پورے دورانیے میں دیکھ بھال بہتر بنانا ہے۔
ابتدائی حمل کا معاملہ دنیا بھر کے پالیسی سازوں کے لئے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے کیونکہ آبادیاتی تبدیلیاں جیسے شرح پیدائش میں گراوٹ اور عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی آبادی دنیا بھر کے معاشروں کی ساخت کو نئے سرے سے تشکیل دے رہی ہیں۔
چین نے ہفتہ کے روز عالمی یوم آبادی "ابتدائی حمل کی دیکھ بھال، پرورش اور بااختیار بنانا” کے موضوع کے ساتھ منایا جو "نوجوانوں کی امیدوں اور آرزوؤں کو حال اور مستقبل میں پورا کرنا” کے عالمی موضوع کا تکمیلی پہلو ہے۔
چین کے وسطی صوبہ ہوبے میں عالمی یوم آبادی کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں نیشنل ہیلتھ کمیشن (این ایچ سی) کی نائب سربراہ گو یان ہونگ نے کہا کہ چین ابتدائی حمل کی دیکھ بھال کو بہتر بنانا جاری رکھے گا تاکہ ہر نوجوان کو آسانی کے ساتھ اعلیٰ معیار کی خدمات تک رسائی حاصل ہو۔
حمل کا ابتدائی دور زندگی کے آغاز میں ایک اہم مرحلہ ہے۔ یہ نہ صرف جنین کی نشوونما پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ خواتین کی طویل المدتی تولیدی صحت کے لئے بھی نہایت اہم ہے۔
این ایچ سی نے 2024 کے اختتام پر حمل کے ابتدائی مراحل میں خواتین کو پیشہ ورانہ مشاورت اور صحت کی خدمات فراہم کرنے کے لئے ایک مہم کا آغاز کیا۔ اب تک ملک بھر کے طبی اداروں میں 12 ہزار 226 ابتدائی حمل کلینک قائم کئے جا چکے ہیں جن کی خدمات کاؤنٹی کی سطح کے علاقوں تک پہنچ چکی ہیں۔
چین کے جنوبی صوبہ گوانگ ڈونگ میں ماہرین کو ابتدائی حمل کی دیکھ بھال کے رہنما خطوط اور رہنما کتابچہ تیار کرنے کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔ چین کے وسطی صوبہ ہونان نے ضرورت مند خواتین تک رسائی بہتر بنانے کے لئے اختتام ہفتہ کلینک سروسز کو وسیع کیا ہے۔
صوبہ ہوبے کے شہر یی چھانگ نے ایک ایسا جدید نظام تیار کرنے میں پہل کی ہے جو تولیدی عمر کی خواتین کے لئے مکمل لائف سائیکل مینجمنٹ کو ممکن بناتا ہے۔ صوبہ شنشی کے دارالحکومت تائی یوآن میں ایک ایسا نظام لاگو ہے جو حاملہ خواتین کو ڈاکٹروں سے مربوط کرتا ہے جس سے ون سٹاپ سروس فراہم ہوتی ہے۔
پیکنگ یونیورسٹی کے تیسرے ہسپتال میں تولیدی صحت کی محقق وانگ یوآن یوآن نے کہا کہ انہوں نے موروثی پیدائشی نقائص کو روکنے اور اعلیٰ جینیاتی خطرات سے دوچار خاندانوں کو صحت مند تولید حاصل کرنے میں مدد دینے کے لئے ایک جینیاتی تشخیص کی ٹیکنالوجی وضع کی ہے۔
وانگ نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی 60 سے زائد طبی اداروں میں استعمال کی جا رہی ہے جس سے 900 سے زائد جینیاتی امراض کی درست تشخیص ممکن ہوئی ہے۔
چین نے اعلیٰ معیار کے طبی وسائل کی متوازن تقسیم کے لئے علاقائی طبی مراکز کی تعمیر میں بھی تیزی لائی ہے۔
چین میں اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی نمائندہ نادیہ رشید نے کہا کہ چین زندگی کے مکمل لائف سائیکل کو وسیع تر خاندانی امدادی نظام کے ساتھ مربوط کر کے نوجوانوں کو اپنی زندگی کی بہتر منصوبہ بندی کرنے میں مدد کر رہا ہے۔


