اسلام آباد (لارڈ میڈیا): آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی کو 29 ارب 41 کروڑ روپے سے زائد خسارے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاور ہاؤس کی بندش کی وجہ سے پراجیکٹ کو 99 ارب 17 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ہیڈ ریس اور ٹیل ریس ٹنل کے بار بار گرنے کی تحقیقات مکمل نہیں ہوسکیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی کی مالی کارکردگی 23-2022 سے تنزلی کا شکار ہے۔ ٹیل ریس ٹنل گرنے کے باعث جولائی 2022 سے اگست 2023 تک بجلی کی پیداوار مکمل معطل رہی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ہیڈ ریس ٹنل گرنے کے بعد یکم مئی 2024 سے پاور ہاؤس بند ہے۔ دونوں ٹنلز کی مرمت اور بحالی پر اضافی اخراجات سے مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ نیپرا سے ریفرنس ٹیرف کی منظوری نہ ملنے پر منصوبہ مالی مشکلات کا شکار ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حادثات سے ہونے والے نقصانات پر انشورنس کلیمز بھی حاصل نہ کیے جا سکے۔ آڈیٹر جنرل نے زیرِ التوا تحقیقات مکمل کرکے پاور ہاؤس کی بحالی کی سفارش کی ہے۔


