واشنگٹن (لارڈ میڈیا): پیو ریسرچ سینٹر کے تازہ سروے کے مطابق امریکی نوجوانوں اور ڈیموکریٹک ووٹرز میں اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے میں کمی اور حماس کے لیے نرم گوشہ بڑھا ہے۔
سروے میں 18 سے 29 سال کے تقریباً 13 فیصد نوجوانوں نے حماس کے بارے میں مثبت رائے دی۔ جبکہ 30 سے 49 سال کے افراد میں یہ شرح 11 فیصد اور 50 سے 64 سال کی عمر کے افراد میں 6 فیصد رہی۔
سیاسی وابستگی کے لحاظ سے 13 فیصد ڈیموکریٹس نے حماس کے حق میں رائے دی جبکہ ریپبلکنز میں یہ شرح 6 فیصد تھی۔ ڈیموکریٹک نوجوانوں میں ہر چھ میں سے ایک نے حماس کی حمایت کی۔
مذہبی بنیاد پر 44 فیصد مسلم امریکیوں نے حماس کے بارے میں مثبت رائے دی، جو 2024 کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہے۔ جبکہ یہودی امریکیوں میں صرف 2 فیصد اور وائٹ ایونجیلیکل پروٹسٹنٹس میں 4 فیصد نے حماس کی حمایت کی۔
سروے کے مطابق اسرائیل کے بارے میں امریکیوں کی منفی رائے میں اضافہ ہوا۔ 2022 میں 25 فیصد امریکی اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے تھے جو اب 42 فیصد ہو گئی جبکہ مثبت رائے 67 فیصد سے کم ہو کر 52 فیصد رہ گئی۔
فلسطینی عوام کے بارے میں امریکیوں کی رائے مستحکم رہی۔ 50 فیصد امریکی فلسطینیوں کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔ 30 سال سے کم عمر افراد میں 58 فیصد نے فلسطینیوں کے حق میں اور 32 فیصد نے اسرائیلیوں کے حق میں رائے دی۔
سروے مئی 2026 میں 12 ہزار 574 بالغ افراد پر کیا گیا جس میں غلطی کا ممکنہ تناسب 1.3 فیصد بتایا گیا ہے۔ سروے کے نتائج امریکی نوجوانوں کی رائے میں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔


