بیجنگ (شِنہوا) چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خودمختار علاقے میں موسلادھار بارشوں نے شدید تباہی مچائی ہے جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں معاونت کے لئے ڈرونز اور تربیت یافتہ پائلٹس تعینات کئے گئے ہیں۔
زمینی راستے منقطع ہونے کے بعد سب سے پہلی ترجیح مواصلاتی نظام کی بحالی تھی۔ منگل کی صبح 5 بج کر 30 منٹ پر وزارت ہنگامی انتظامات کی جانب سے بھیجے گئے 2 ونگ لونگ ڈرونز نے چین کے وسطی صوبے ہوبے سے پرواز کی۔ 3 گھنٹے کی پرواز کے بعد گوانگ شی کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کے اوپر فضا میں چکر لگانا شروع کیا اور فضائی بیس سٹیشنز کے طور پر کام کیا۔ ان ڈرونز نے موبائل کوریج بحال کرتے ہوئے 8 ہزار سے زائد مرتبہ مواصلاتی خدمات فراہم کیں۔
اس کے بعد امدادی سامان کی ترسیل کا مرحلہ شروع ہوا۔ موقع پر کام کرنے والی ایک ڈرون کمپنی کے ملازم شیاؤ چھن نے بتایا کہ ’’کچھ مقامات تک امدادی کشتی کو آنے جانے میں 2 سے 3 گھنٹے لگتے ہیں لیکن کارگو ڈرون تقریباً 100 کلوگرام سامان لے کر صرف 3 سے 4 منٹ میں وہاں پہنچ سکتا ہے۔‘‘
سرکاری ملکیتی انجینئرنگ ریسکیو فورس چائنہ آن ننگ کنسٹرکشن گروپ نے بتایا کہ اس کے بھاری وزن اٹھانے والے ڈرونز نے دور افتادہ دیہات میں امدادی سامان کے 120 سے زائد پیکٹ فضائی راستے سے پہنچائے۔
چین کے مشرقی صوبے ژےجیانگ کے شہر ہانگ ژو میں قائم شہری امدادی ٹیم رامونیون نے بتایا کہ اس کے ڈرونز نے بدھ کے روز 4 گھنٹوں کے دوران 35 پروازیں کیں اور 3 سیلاب زدہ و محصور دیہات تک 4 ٹن خوراک، پانی اور ادویات پہنچائیں۔
اگرچہ ڈرونز کی رسائی وسیع ہے تاہم وہ زمینی امدادی کارروائیوں کا متبادل نہیں بلکہ ان کی تکمیل کا ذریعہ ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق 8 ہزار 300سے زائد امدادی اہلکار ایک ہزار 700 سے زیادہ گاڑیوں اور 5 ہزار 700 کشتیوں کی مدد سے آبی ذخائر کو مضبوط بنانے، لاپتہ افراد کی تلاش اور سیلابی پانی کی نکاسی کا کام منظم انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔


