ہومتازہ ترینآبنائے ہرمز میں ایران امریکا کشیدگی، تیل ٹینکرز کا رخ تبدیل

آبنائے ہرمز میں ایران امریکا کشیدگی، تیل ٹینکرز کا رخ تبدیل

دبئی (لارڈ میڈیا): آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کی بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ متعدد تیل اور گیس بردار ٹینکرز نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا ہے جبکہ ہزاروں سمندری کارکن خلیج فارس میں محصور ہیں۔ ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی خامیاں موجودہ بحران کی ایک اہم وجہ ہیں۔

ایرانی حملوں کے بعد چار تیل اور گیس بردار ٹینکروں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش ترک کر دی۔ الغریہ، دحیل اور الرویس نامی تین ٹینکر قطر انرجی کے زیر انتظام خالی حالت میں قطر کی راس لفان برآمدی تنصیب جا رہے تھے لیکن انہوں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔

قطر نے حالیہ حملے کے بعد ایران کے نائب سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ قطر نے اس حملے کو بین الاقوامی بحری قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایران سے ایسے اقدامات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

امریکی اور ایرانی کشیدگی کے باوجود بعض آئل ٹینکر بدستور آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں۔ مرکری ہوپ نامی جہاز نے 20 لاکھ بیرل تیل کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کر لی جبکہ جاپانی آئل ٹینکر ٹینجن بھی اس راستے سے گزر گیا۔

بحری تجزیاتی کمپنی کپلر کے مطابق 7 جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت میں جزوی بہتری دیکھی گئی۔ تاہم پابندیوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث بحری سلامتی کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی بحری تنظیم کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تقریباً 6 ہزار سمندری کارکن خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی کمزوریاں حالیہ بحران کی وجوہات میں شامل ہیں۔ واشنگٹن کے کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ٹریٹا پارسی نے کہا کہ ایران کو خدشہ ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں