انقرہ (لارڈ میڈیا): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی حالیہ ایرانی حملوں کا جواب تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ختم ہوچکی ہے کیونکہ ایرانیوں نے مذاکرات میں وقت ضائع کیا۔
نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران میں فوجی کارروائی کی تاکہ ایرانی حملوں کا جواب دیا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں وقت ضائع ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا کا مؤقف ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بالکل واضح ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اور انہیں توقع تھی کہ ایران کے معاملے میں نیٹو امریکا کی زیادہ مدد کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نیٹو کو سب سے زیادہ مالی معاونت فراہم کرتا ہے اور اتحادی ممالک کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنی چاہئیں۔ ٹرمپ نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ عالمی اور علاقائی معاملات پر ملاقات کی ہے۔
اسپین کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسپین کے ساتھ تعلقات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ایران پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برسوں سے دنیا کے مختلف ممالک کے لیے مسائل پیدا کرتا رہا ہے۔


