تہران (لارڈ میڈیا): ایران کے پاسداران انقلاب نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔ یہ کارروائی امریکی فوج کی جانب سے ایران پر بمباری اور تیل کی فروخت پر پابندیوں کے جواب میں کی گئی۔ اس حملے کے بعد کویت اور بحرین میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور کویتی فوج نے بتایا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے دشمن کے میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کیا ہے۔ اس جوابی کارروائی کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔
امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں تیل کے تین بحری جہازوں پر حملوں کے بدلے میں کیے گئے ہیں۔ امریکی فوج نے ایران کے میزائل اور ڈرون لانچ کرنے والے اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، حملے ایران کے اہم آئل ہب خارگ آئی لینڈ، قشم آئی لینڈ اور بندر عباس میں ہوئے، جہاں مچھلیوں کے گھاٹ اور تجارتی بیس کو نقصان پہنچا اور کچھ افراد زخمی ہوئے۔
ایران کی خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر نے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھلم کھلا جارحیت ہے اور تہران آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ غنڈہ گردی کا دور ختم ہو چکا ہے اور ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کی حفاظت کے لیے جو بھی قدم ضروری سمجھے گا، وہ اٹھائے گا۔


