بیجنگ(شِنہوا) چینی محققین کے ایک گروپ نے 2019 سے 2023 کے عرصے کے لئے 10 میٹر مکانی ریزولوشن کے ساتھ چین میں جھیل کنارے واقع ویٹ لینڈز (ایل ایس ڈبلیوز) کی مکانی تقسیم کا ڈیٹا سیٹ تیار کیا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج حال ہی میں تحقیقی جریدے ’’جرنل آف ہائیڈرولوجی: ریجنل سٹڈیز‘‘ میں شائع ہوئے ہیں۔
ایل ایس ڈبلیوز جھیل اور خشکی کے درمیان واقع عبوری خطوں میں موجود ہوتے ہیں جہاں جھیل کے پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ کے باعث ان کی جغرافیائی حدود مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے تحت شمال مشرقی ادارہ برائے جغرافیہ و زرعی ماحولیات کے محققین نے وقت کے تسلسل پر مبنی ریموٹ سینسنگ ڈیٹا کے ذریعے ایک خودکار شناختی طریقہ کار تیار کیا جس سے ملک بھر میں جھیل کنارے واقع ویٹ لینڈز کی بڑے پیمانے پر اور انتہائی درست نقشہ سازی ممکن ہوئی۔ اس طریقہ کار نے ان علاقوں میں تبدیلیوں کے رجحانات اور ان کے محرک عوامل کا منظم تجزیہ بھی ممکن بنایا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جھیلوں کے ایل ایس ڈبلیوز کی جغرافیائی تقسیم میں نمایاں علاقائی تغیر پایا جاتا ہے اور ان کی زیادہ تعداد چین کے مرطوب جنوب مشرقی علاقوں میں موجود ہے۔
تحقیق کے مطابق چین بھر میں ان ویٹ لینڈز میں تبدیلیوں کا سب سے بڑا سبب دریائی طاسوں سے آنے والا پانی ہے۔ سرد علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافہ اور برف کے پگھلنے کا عمل ویٹ لینڈز پر زیادہ نمایاں اثرات مرتب کرتا ہے جبکہ خشک علاقوں میں بارش اور بخارات بننے کی شرح میں تبدیلیاں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خشک سالی اور سیلاب کے بار بار آنے سے جھیلوں کے پانی کی سطح میں زیادہ اتار
چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے جس سے جھیلوں کے ساحلی ویٹ لینڈز میں تبدیلیوں کی شدت مزید بڑھ جاتی ہے۔
محققین کے مطابق ان ساحلی ویٹ لینڈز میں ہونے والی تبدیلیاں آبی پرندوں کی رہائش گاہوں کے معیار اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج جیسے ماحولیاتی عمل پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔


