ہنگری سے تعلق رکھنے والے 23 فنکار، فنونِ لطیفہ کے اساتذہ، طلبہ اور ثقافتی ماہرین حال ہی میں ایک ثقافتی تبادلہ پروگرام میں شرکت کے لئے چین کے شمالی صوبہ شَنشی میں جمع ہوئے۔
مہمانوں کے اس گروپ نے یِنگ شیئن کے لکڑی کے پاگوڈے، یون گانگ غاروں اور قدیم شہر پنگ یاؤ سمیت متعدد تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): سزابو ایبل، ہنگری کے فنکار
’’مجھے چین کے فنِ تعمیر اور روایتی فنون کے بارے میں جاننے کا بے حد تجسس ہے۔ یہاں جو کچھ میں نے دیکھا اس نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): واروشی گیبریئیلا ربیکا، ہنگری کی فنکار
’’یہ واقعی حیران کُن ہے۔ میں نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ مجھے یہاں کی عمارتوں کی باریک نقش و نگاری اور فنِ تعمیر بہت پسند آیا۔‘‘
صوبہ شَنشی میں یوآن خاندان (1271ء تا 1368ء) اور اس سے بھی پہلے کے دور کی چین کی 80 فیصد سے زائد قدیم لکڑی کی عمارتیں موجود ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): اوریگ ژوفیا ایدل، ہنگری کی طالبہ
’’میں یہاں کے فن اور ثقافتی نوادرات کو دیکھنے کے لئے بے حد پُرجوش تھی۔ خاص طور پر فنِ تعمیر اور عمارتوں پر بنی دیواروں کی تصویریں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں کچھ چینی مصوری بھی دیکھنا چاہتی ہوں اس سے پہلے مجھے چینی مصوری دیکھنے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔اس لئے یہ میرے لئے بہت دلچسپ تجربہ ہوگا۔
میرے لئے سب سے دلچسپ بات شاید یہ ہے کہ آپ لوگوں نے اپنی عمارتیں بنانے میں ایک بھی کیل استعمال نہیں کی۔ یہ بات واقعی میرے لئے بے حد حیران کُن اور متاثر کرنے والی ہے۔
مجھے یہاں سے یقیناً بہت زیادہ تخلیقی تحریک ملی۔ اب میں اس نمائش کے لئے اپنے فن پارے تخلیق کرنے کی منتظر ہوں جس کا ہم انعقاد کرنے والے ہیں۔‘‘
پروگرام کے دوران تخلیق کئے گئے منتخب فن پاروں کو تین زبانوں چینی، ہنگرین اور انگریزی زبانوں پر مشتمل ایک البم میں شائع کیا جائے گا۔
یہ فن پارے چین اور ہنگری دونوں ملکوں میں منعقد ہونے والی سیاحتی نمائشوں میں بھی پیش کئے جائیں گے۔
تائی یوآن، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


