لاہور (لارڈ میڈیا): ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ واٹس ایپ گروپ کا رکن یا ایڈمن ہونا بذات خود جرم یا فوجداری ذمہ داری نہیں بنتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ غیر قانونی یا توہین آمیز مواد اپ لوڈ، فارورڈ یا شیئر کرنے والا شخص خود اپنے عمل کا ذمہ دار ہوگا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے یہ فیصلہ ایف آئی اے سائبر کرائم کیس میں ملزم سید عبدالمنان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جاری کیا ہے۔
عدالت نے اس مقدمے کا ٹرائل جلد مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف کسی واٹس ایپ گروپ میں موجودگی یا خاموش رہنا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ صرف گروپ ایڈمن ہونے کی بنیاد پر بھی کسی شخص پر فوجداری ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے مزید کہا کہ واٹس ایپ پر غیر قانونی یا توہین آمیز مواد اپ لوڈ، فارورڈ یا شیئر کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی ہوگی۔ فیصلے میں ایف آئی اے کی ٹیکنیکل اینالیسز رپورٹ کو بادی النظر میں قابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے ملزم سید عبدالمنان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست خارج کر دی گئی۔


