اسلام آباد (لارڈ میڈیا): عالمی بینک نے پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان این ایف سی معاہدے کی ازسرنو جانچ کی سفارش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، این ایف سی کے تحت محاصل کی تقسیم کو کارکردگی کی بنیاد پر طے کرنے کی ضرورت ہے۔
عالمی بینک نے کہا ہے کہ صوبے جو خدمات عامہ، صحت عامہ اور تعلیم میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، انہیں زیادہ محاصل ملنے چاہئیں۔ ساتویں این ایف سی کے بعد محاصل میں حصہ کم ہوا، لیکن اخراجات میں کمی نہیں آئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کے بعد وفاق کا مالی خسارہ بڑھتا رہا جبکہ صوبائی حکومتیں ان اصلاحات کے فوائد عوام تک منتقل کرنے میں ناکام رہیں۔ صوبائی محاصل کا 80 فیصد انتظامی اخراجات پر خرچ ہو رہا ہے، جبکہ ماحولیات پر صرف 1 فیصد خرچ کیا جارہا ہے۔
رپورٹ کی سفارشات میں وفاق، صوبوں اور بلدیاتی اداروں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم پر زور دیا گیا ہے۔ عالمی بینک نے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور مستحکم مالی منتقلیوں کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے تاکہ بہتر مالی ہم آہنگی ممکن بنائی جا سکے۔


