ہومتازہ ترینبنگلہ دیش وزیراعظم کے دورہ چین سے ماہرین کو  سرمایہ کاری اور...

بنگلہ دیش وزیراعظم کے دورہ چین سے ماہرین کو  سرمایہ کاری اور تعاون بڑھنے کی امید

بنگلہ دیش کے وزیرِاعظم طارق رحمان 24 سے 26 جون تک چین کے سرکاری دورے پر ہیں۔

بنگلہ دیش کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ایسےاہم وقت میں ہو رہا ہے جب ملک معاشی بحالی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے سے سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور دیگر کلیدی شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): امتیاز احمد، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، سینٹر فار آلٹرنیٹوز، بنگلہ دیش

’’میرا خیال ہے کہ سرمایہ کاری اہم ترجیحات میں سرفہرست ہو گی۔ مجھے یقین ہے کہ نئی حکومت سرمایہ کاری میں حتیٰ الامکان اضافہ کرنے کی کوشش کرے گی۔

چین اور چینی سرمایہ کاری کے لئےعوامی سطح پر بھرپور حمایت موجود ہے کیونکہ اس سرمایہ کاری نے بنگلہ دیش کی بہت مدد کی۔ چینی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں صرف ہوا ہے جو واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ ان منصوبوں میں بندرگاہیں اور پل شامل ہیں جو نمایاں تبدیلی لائے ہیں۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ایس کے توفیق ایم حق، ڈائریکٹر، ساؤتھ ایشین انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اینڈ گورننس، نارتھ ساؤتھ یونیورسٹی، بنگلہ دیش

’’موجودہ حالات میں چین بنگلہ دیش کے لئے اب سب سے اہم ممالک میں سے ایک ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے چین کے ساتھ انتہائی مضبوط تعلقات قائم ہیں۔

آئندہ برسوں میں بنگلہ دیش بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے چین سے مزید تعاون کا خواہاں ہےخواہ اس کا تعلق سڑکوں، ریلوے یا رابطوں کے دیگر منصوبوں سے ہو۔

بنگلہ دیش نے سال 2016 میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) پر دستخط کئے تھے۔ ہم اس منصوبے کے ایک سرگرم رکن ہیں اور ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید رفتار ملے۔

عوام اس دورے کی انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز پیش رفت کےبے تابی سے منتظر ہیں۔‘‘

ڈھاکہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں