برلن (لارڈ میڈیا): جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے کہا ہے کہ جرمنی نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے جرمن پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ افغان حکام کے ساتھ جاری رابطے صرف ملک بدری کے تکنیکی پہلوؤں تک محدود ہیں۔
چانسلر میرز نے کہا کہ برلن طالبان حکومت کے ساتھ سیاسی تعلقات قائم نہیں کر رہا۔ جرمنی کے افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات ریاستی سطح پر برقرار ہیں، لیکن کابل میں موجودہ حکام کے ساتھ تعامل محدود دائرے میں ہے اور جرمن قومی مفادات کے تحت ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت طالبان کے ساتھ ضروری تکنیکی تعاون کی خواہاں ہے تاکہ جرمنی میں جرائم کے مرتکب افغان شہریوں کی ملک بدری میں سہولت پیدا کی جا سکے۔ جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ افغان حکام کے نمائندوں سے اس سلسلے میں بات چیت کر رہے ہیں۔
جرمن حکومت کو سیاسی جماعتوں کی طرف سے ان مہاجرین کی ملک بدری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ جرمن وزارت خارجہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ مزید افغان سفارتکار جرمنی پہنچیں گے تاکہ قونصلر خدمات کو مضبوط بنایا جا سکے۔


