بیجنگ (لارڈ میڈیا): چین نے کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹرز کی فہرست میں امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چین کا سپر کمپیوٹر لائن شائن، جو شین ژین میں نیشنل سپر کمپیوٹر سینٹر میں موجود ہے، جون 2026 کی ٹاپ 500 فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ یہ نظام مکمل طور پر چین میں تیار کردہ چپس پر کام کرتا ہے اور تین سال بعد چین کی اس فہرست میں دوبارہ شمولیت کی علامت ہے۔
لائن شائن نے امریکا کے سابقہ نمبر ایک سپر کمپیوٹر ایل کیپیٹن کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو امریکی حکومت کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کے انتظام اور تحقیق کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ لائن شائن روایتی ٹاپ 500 ٹیسٹ میں سر فہرست ہے، تاہم مصنوعی ذہانت کے کاموں کے لئے الگ معیار پر اس کی درجہ بندی چوتھے نمبر پر رہی۔
ماہرین کے مطابق، اس پیشرفت سے واضح ہوتا ہے کہ چین کی توجہ مصنوعی ذہانت میں عالمی برتری کے بجائے مقامی چپس کی تیاری اور ٹیکنالوجی میں خود کفالت پر مرکوز ہے۔ چین نے 2010 میں پہلی بار ٹاپ 500 فہرست میں سرفہرست مقام حاصل کیا تھا جبکہ 2023 تک یہ مقام امریکا اور جاپان کے درمیان تبدیل ہوتا رہا۔


