لندن (لارڈ میڈیا): برطانیہ کی سیاست میں گزشتہ دس سالوں میں سات وزرائے اعظم تبدیل ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ پیر کے روز وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے اپنی اہلیہ کو گلے لگاتے ہوئے استعفیٰ دیا، جو محض دو سال کے بعد دیا گیا۔
برطانیہ کی معیشت میں جاری بحران، جو 2007 کے مالیاتی بحران کے بعد سے بدحال ہے، وزرائے اعظم کی مختصر مدت کی ایک اہم وجہ ہے۔ قرضوں کی بڑھتی ہوئی سطح اور عوامی مالیات کی خرابی نے حکومتوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
بریگزٹ کا فیصلہ، جسے ماہرین نے برطانیہ کی تاریخ کا غلط ترین فیصلہ قرار دیا ہے، سیاسی استحکام کو متاثر کر رہا ہے۔ اس فیصلے نے ڈیوڈ کیمرون اور تھریسا مے جیسے وزرائے اعظم کی رخصتی کی راہ ہموار کی۔
وزرائے اعظم کی ذاتی غلطیاں بھی ان کی مدت کو مختصر کر دیتی ہیں۔ بورس جانسن کے اسکینڈلز اور لیز ٹرس کی ناکام معاشی پالیسیوں نے ان کی حکمرانی کو متاثر کیا۔
سوشل میڈیا اور تیز رفتار میڈیا کی موجودگی میں عوام کی توقعات بڑھ گئی ہیں، جس نے وزرائے اعظم پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔ پروفیسر کرس اوگڈن نے کہا کہ اسٹارمر کو ایک گہرے بحران میں گھرا ہوا ملک ملا تھا۔


