لاہور (لارڈ میڈیا): ٹیکسٹائل ملز مالکان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے درمیان کیمرے لگانے کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایف بی آر نے ٹیکسٹائل ملز مالکان کو اپنے خرچے پر کیمرے لگانے کا کہا، تاہم ملز مالکان نے اس خرچ کو برداشت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹیکسٹائل مالکان زبردستی کیمرے نصب کرنے کی صورت میں فیکٹریاں بند کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس چوری روکنے کے لیے کیمرے لگانا چاہتا ہے لیکن اخراجات کا بوجھ مالکان نہیں اٹھا سکتے۔
فیکٹری مالکان کے مطابق سیف سٹی کیمرے چالان کرتے ہیں اور ان کا خرچ صارف برداشت نہیں کرتا، اسی طرح ایف بی آر کو بھی اپنے خرچے پر کیمرے لگانے چاہئیں۔ مزید کہا گیا کہ صرف ٹیکسٹائل ملز نہیں بلکہ جننگ اور اسپننگ ملز کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ ان سے زیادہ ٹیکس حاصل ہو سکتا ہے۔


