برسلز (شِنہوا) یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا ہے کہ یورپی یونین (ای یو) کے رہنماؤں نے روس پر عائد پابندیوں میں مزید 12 ماہ کی توسیع پر اتفاق کر لیا ہے۔
برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں کیا گیا یہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ پہلی بار یورپی یونین نے اپنی اقتصادی پابندیوں کے پیکیج میں پورے ایک سال کی توسیع کی ہے۔ اس سے قبل ان پابندیوں کی مدت ہر چھ ماہ بعد بڑھائی جاتی تھی۔
یوکرین نے اس ماہ یورپی یونین میں شمولیت کے لئے مذاکرات کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا اور وان ڈیر لیین نے کہا کہ یورپی یونین مستقبل قریب میں مزید مذاکراتی مراحل بھی شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وان ڈیر لیین نے کہا کہ یہ دونوں اقدامات بہت مضبوط پیغام دیتے ہیں اور ہم پابندیوں کے 21 ویں پیکیج کو حتمی شکل دینے کے لئے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ سخت اور موثر پابندیاں ہیں جو روس پر دباؤ برقرار رکھیں گی۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے بھی پریس کانفرنس میں بتایا کہ یورپی کونسل نے یوکرین سے متعلق مشترکہ اعلامیہ منظور کر لیا ہے جس کی یورپی یونین کے تمام 27 رہنماؤں نے توثیق کی۔ دسمبر 2024 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس معاملے پر تمام رکن ممالک متفق ہوئے ہیں۔
کوسٹا نے مزید کہا کہ وہ اپنے دفتر کے ذریعے یورپی یونین اور روس کے درمیان براہ راست رابطے کے لئے ایک سفارتی ذریعہ قائم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کو ماسکو تک اپنا موقف خود پہنچانے کے قابل ہونا چاہیے، بجائے اس کے کہ وہ دوسروں کے ذریعے روس کے موقف کی تشریح پر انحصار کرے۔
تاہم بعض یورپی رہنما مستقبل میں ممکنہ امن مذاکرات میں کوسٹا کے کردار کے بارے میں محتاط رویہ رکھتے ہیں۔
جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرس نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ پر مشتمل سفارتی رابطہ کاری کا نظام یوکرین کی واضح درخواست پر قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتونیو کوسٹا یورپی یونین کی نمائندگی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم اس وقت ان کے لئے مزید فیصلے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور امن مذاکرات سے متعلق سفارتی کوششوں کی قیادت اب تک زیادہ تر امریکہ کرتا رہا ہے جبکہ یورپی ممالک اس عمل میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے رہنما 18 سے 19 جون تک جاری رہنے والے دو روزہ سربراہی اجلاس کے لئے برسلز میں جمع ہوئے، جہاں یوکرین کی حمایت، اگلے کثیر سالہ مالیاتی لائحہ عمل (ایم ایف ایف) اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


