تولوز (لارڈ میڈیا): آسٹریلوی ایئرلائن قنطاس ایئرویز نے دنیا کی طویل ترین نان اسٹاپ پروازوں کے لیے نئی حکمت عملی پیش کی ہے۔ کمپنی نے بتایا ہے کہ جدید سائنسی تحقیق کے ذریعے 20 گھنٹے طویل فضائی سفر کو مسافروں کے لیے زیادہ آرام دہ بنایا جا سکتا ہے۔ قنطاس اگلے سال سڈنی اور لندن کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ بعد ازاں سڈنی سے نیویارک تک بھی نان اسٹاپ سروس متعارف کرائی جائے گی۔ ان پروازوں کے دوران مسافروں کو ویلنیس زون، زیادہ جگہ والی نشستیں اور جدید لائٹنگ سسٹم فراہم کیا جائے گا تاکہ جیٹ لیگ کا مسئلہ کم کیا جا سکے۔
یونیورسٹی آف سڈنی کے پروفیسر پیٹر سسٹولی نے بتایا ہے کہ مختلف ٹائم زونز عبور کرنے سے جسمانی تھکن اور جیٹ لیگ کا سامنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن کے سفر میں سات سے نو جبکہ نیویارک کے سفر میں 14 سے 16 ٹائم زونز تبدیل ہوتے ہیں۔ قنطاس کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد 20 سے 22 گھنٹے تک جاری رہنے والی پروازوں کے دوران ہونے والی جسمانی و ذہنی تکلیف کو کم کرنا ہے۔
قنطاس کی چیف ایگزیکٹو وینیسا ہڈسن نے کہا ہے کہ کمپنی کو امید ہے کہ براہ راست پروازوں کے لیے مسافر اضافی رقم ادا کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ طیارے میں 238 مسافروں کو رکھنے کا ارادہ ہے، جن میں زیادہ تر پریمیم کلاس کی نشستیں ہوں گی۔ سینئر عہدیدار کے مطابق، طویل راستوں پر آپریشنل خطرات بھی موجود ہیں، مگر اگر منصوبہ کامیاب ہوا تو یہ فضائی صنعت میں تبدیلی لا سکتا ہے۔


