ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے قلب میں واقع ’’مہارت مانتی‘‘ ایک ایسا ریستوران ہے جو ترکیہ کےپسندیدہ ڈمپلنگ ’مانتی‘ سے منسوب ہے۔ مانتی ترکوں کا وہ روایتی کھانا ہے جس کے ذائقے کئی نسلیں بچپن سے چکھتی آئی ہیں۔
ریستوران کی مالک نورجان سرتاکان کے لئے مانتی کھانے سے کہیں بڑی ایک کہانی سمیٹے ہوئے ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (ترک): نورجان سرتاکان، مالک، مہارت مانتی ریستوران
’’جب ہم نے اس کی تاریخ کے حوالے سے تحقیق کی تو ہمیں مختلف روایات ملیں۔ ان میں سب سے زیادہ عام روایت اسے چین سے جوڑتی ہے جہاں سے یہ شاہراہِ ریشم کے ذریعے مختلف علاقوں تک پھیل گئی۔‘‘
ریستوران کے اندر پلیٹوں میں مختلف ممالک کے ڈمپلنگز پیش کئے جا رہے ہیں۔ یہ مہارت مانتی کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد مہمانوں کو عالمی سطح کے اُن پکوانوں سے متعارف کرانا ہے جو مشترکہ غذائی ورثے کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (ترک): نورجان سرتاکان، مالک، مہارت مانتی ریستوران
’’ہمیں جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ ہے کہ بنیادی حقیقت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ آپ آٹا لیتے ہیں اور اسے گوشت، سبزیوں یا دیگر اجزاء سے بھرتے ہیں۔ شکل بدل جاتی ہے، سائز بدل جاتا ہےلیکن خیال وہی رہتا ہے۔ ‘‘
غذائی تاریخ کے ماہرین کے مطابق ترکیہ کی مانتی ڈمپلنگ کا تعلق مشرقی ایشیا سے اناطولیہ تک پھیلی ہوئی ایک وسیع روایت سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاجر، مسافر اور خانہ بدوش لوگ قدیم شاہراہِ ریشم کے ذریعے نہ صرف سامان بلکہ ترکیبیں اور کھانا پکانے کی تکنیکیں بھی اپنے ساتھ لے کر ہزاروں کلومیٹر دور تک گئے۔
سرتاکان کے مطابق مہارت مانتی میں چین اور مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک سے سیاح باقاعدگی سے آتے ہیں جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہیں ایک مانوس کھانے کے ترک انداز سے خاص دلچسپی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (ترک): نورجان سرتاکان، مالک، مہارت مانتی ریستوران
’’ہمارے چینی مہمان ترک مانتی کے بارے میں بہت تجسس رکھتے ہیں۔ مشرقی ایشیا کے بعض حصوں میں عام طور پر بڑے سائز کے ڈمپلنگز اناطولیہ پہنچ کر بتدریج چھوٹے ہو گئے۔ مقامی ذوق کے مطابق ان کی شکل بدل گئی لیکن ان کی اصل روح برقرار رہی۔‘‘
سرتاکان کے نزدیک مانتی کی کہانی شاہراہِ ریشم کی وسیع ثقافتی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (ترک): نورجان سرتاکان، مالک، مہارت مانتی ریستوران
’’یہ (شاہراہِ ریشم )صرف سامان کی نقل و حمل کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ اس کے ذریعے ثقافتیں بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچیں۔ کھانا بھی ثقافت کا حصہ ہے اور یہ لوگوں کے ساتھ سفر کرتا ہے۔‘‘
اس مشترکہ ورثے سے لطف اندوز ہونے والوں میں 25 سالہ ایریم آئیدن بھی شامل ہیں جنہوں نے حالیہ دورے کے دوران ازبک طرز کی مانتی چکھ کر دیکھی۔
بہت سے ترک باشندوں کی طرح آئیدن بھی مانتی کو اپنے بچپن کی یادوں اور خاندانی روایات سے جوڑتی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 5 (ترک): ایریم آئیدن، گاہک
’’یہ ہمیشہ سے ہماری پسندیدہ غذاؤں میں شامل رہی ہے۔ یہ ایک ایسا کھانا ہے جو ہماری دادی اور نانی بنایا کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری ثقافت میں اس کا ایک خاص مقام ہے۔‘‘
مانتی کی مختلف اقسام آزمانے کے بعد انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ ایک ہی بنیادی تصور مختلف ممالک میں کتنی مختلف شکلیں اختیار کر سکتا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 6 (ترک): ایریم آئیدن، گاہک
’’اگر آپ غور سے دیکھیں تو اکثر ایک جیسے اجزاء مختلف انداز میں پیش کئے جاتے ہیں۔ اس میں مہارت اور فن کارفرما ہوتا ہے۔‘‘
انقرہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


