سنگاپور (شِنہوا) سنگاپور نے مشرق وسطیٰ میں تمام فوجی کارروائیاں روکنے اور مزید مذاکرات کے لئے ایک فریم ورک قائم کرنے کی خاطر امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں سنگاپور نے اس معاہدے کو ممکن بنانے والی ثالثی کی کوششوں، خاص طور پر پاکستان اور قطر کے کردار کو سراہا۔
وزارت نے کہا کہ "بین الاقوامی قانون کے مطابق دیرینہ حل طلب مسائل کا تصفیہ خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے لئے ناگزیر حالات پیدا کرے گا۔”
اس شہری ریاست نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے عزم کا بھی خیرمقدم کیا، جو کہ بحری تجارت کے لئے ایک انتہائی اہم اور سٹریٹجک عالمی بحری تجارتی گزرگاہ ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ "ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلاروک ٹوک گزرگاہ کے حوالے سے ‘اقوام متحدہ کے قانون برائے سمندر’ اور روایتی بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو برقرار رکھیں اور خطے میں بحری جہازوں اور ملاحوں کے تحفظ اور بہبود کو یقینی بنائیں۔”


