ہومتازہ ترینسنکیانگ میں سبز راہداری نے صحرائی شاہراہ کو محفوظ بنا دیا

سنکیانگ میں سبز راہداری نے صحرائی شاہراہ کو محفوظ بنا دیا

چین کے سب سے بڑے متحرک صحرا تکلیمکان کے قلب میں واقع ایک سیدھی اسفالٹ شاہراہ ریت کے ٹیلوں کے درمیان سے گزرتی ہے۔

صحرا سے گزرنے والی اس شاہراہ کو اُڑتی ہوئی ریت سے محفوظ رکھنے اور بلا تعطل آمد و رفت کے لئے صحرا کا پھیلاؤ روکنے والی مقامی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے ماحول دوست پناہ گاہوں کا نظام قائم کیا ہے جس میں بھوسے سے بنی جالی دار رکاوٹ اور درختوں کی حفاظتی قطار شامل ہے۔

حالیہ دنوں میں مزدور بڑی تیزی سے ہالوکسیلون ایموڈینڈرون (ساگزال) کے پودے لگا رہے ہیں تاکہ شاہراہ کے ساتھ ایک سبز راہداری تیار کی جا سکے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): ہو شوانگشیانگ، پروجیکٹ منیجر

’’ہم صحرا میں بنی اس شاہراہ کے دونوں طرف 40 میٹر چوڑے علاقے میں پودے لگا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم ان جگہوں پر بھی دوبارہ شجرکاری کر رہے ہیں جہاں گزشتہ برس لگائے گئے پودے خلافِ توقع اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے تھے۔ روزانہ ہمارے پاس تقریباً 80 کارکن ہوتے ہیں جو اس علاقے میں یومیہ اڑھائی لاکھ سے 3 لاکھ پودے لگاتے ہیں۔ اس رفتار سے ہم روزانہ شاہراہ کے تقریباً چار سے پانچ کلومیٹر علاقے کا احاطہ کر لیتے ہیں۔‘‘

صحرا کے کنارےتی مینگوان کی نانتون ٹاؤن شپ میں روایتی کاشتکاری پہلےتقریباً ناممکن ہوا کرتی تھی۔

آج ماحول دوست حفاظتی پٹی کی بدولت نانتون میں خشک سالی برداشت کرنے والے خربوزے کی کاشت ممکن ہو گئی ہے۔

مقامی کاشتکار لِنگ تاؤ نے 340 مُو (تقریباً 22.7 ہیکٹر) اراضی ان خربوزوں کی کاشت کے لئے ٹھیکے پر لے رکھی ہے۔

وہ ایک اسمارٹ فون ایپ کی مدد سے اپنے اس کھیت میں ڈرِپ آبپاشی کے نظام کو لمحہ بہ لمحہ دیکھ سکتے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): لِنگ تاؤ، خربوزے کا کاشتکار

’’ میں گھر بیٹھے اپنے کھیتوں کی آب پاشی کا نظام چلا سکتا ہوں۔ اس سے وقت کی بچت ہوتی ہے، محنت بھی کم لگتی ہے اور پانی بالکل درست مقدار میں پہنچتا ہے۔‘‘

ارمچی، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں