چین کی اعلیٰ تعلیم کی نمائش اتوار کے روز انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منعقد ہوئی جس نے چین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند انڈونیشین طلبہ کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
اس نمائش میں چین کی صفِ اول کی 34 جامعات، کالجوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں نے حصہ لیا۔ ان تعلیمی اداروں میں پیکنگ یونیورسٹی، شنگھائی جیاؤتونگ یونیورسٹی اور بیجنگ فارن سٹڈیز یونیورسٹی(بی ایف ایس یو) بھی شامل تھیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈونیشیا میں چینی سفارتخانے کے کونسلر چن وُو نے کہا کہ اس نمائش میں چین کی متعدد ممتاز جامعات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا ہے جو سائنس، انجینئرنگ، طب اور انسانی علوم سمیت مختلف تعلیمی شعبوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔
چن نے کہا کہ یہ نمائش چین کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے اعلیٰ معیاری وسائل اور متنوع ترقی کی مکمل طور پر عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس نمائش کے ذریعے مزید انڈونیشین نوجوان چین کے تعلیمی نظام اور پیشہ ورانہ ترقی کو گہرائی سےسمجھ سکیں گے۔
اس وقت 15 ہزار سے زائد انڈونیشین طلبہ چین میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اعلیٰ معیار کی تدریس اور روشن پیشہ ورانہ امکانات چین میں تعلیم حاصل کرنے کی بڑھتے ہوئے رجحان کی اہم وجوہات ہیں۔
دوسری جانب چین اور انڈونیشیا کے درمیان معاشی، تجارتی اور ثقافتی تبادلوں میں وسعت نے انڈونیشیا کے نوجوانوں کے لئے چینی زبان کو ’’کیریئر کی ترقی‘‘ کا ایک مؤثر ذریعہ بنا دیاہے۔
جکارتہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


