پیراگوئے (لارڈ میڈیا): سائنس دانوں نے پیراگوئے میں پہلی بار میٹھے پانی کی نایاب جیلی فش دریافت کی ہے۔ یہ جیلی فش ایک سیلاب زدہ اور الگ تھلگ کان میں ملی ہے، جس کا کسی دریا یا ندی سے تعلق نہیں ہے۔
یہ دریافت کراسپیڈاکوسٹا سووربئی نامی جیلی فش کی ہے، جسے نیشنل یونیورسٹی آف اسونسیون کے محقق گونزالیز دے دوس سانتوس نے یپاکارائی کے علاقے میں پایا۔ یہ پیراگوئے میں اس نوع کی پہلی باضابطہ رپورٹ ہے۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے ‘ایکو سسٹیماس’ میں شائع کی گئی ہے۔ سائنس دانوں کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ یہ جیلی فش اس کان تک کیسے پہنچی، کیونکہ یہاں کا کسی قدرتی آبی راستے سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جاندار ممکنہ طور پر آلودہ پانی یا غوطہ خوری کے آلات کے ذریعے منتقل ہوا اور اس کان تک پہنچا۔


