اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ نے سلامتی کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کی مدت میں توسیع کے لئے چین کی جانب سے تیار کردہ قرارداد منظور کی۔
فو کانگ نے کہا کہ یہ قرارداد یوناما کے کام کے لئے سلامتی کونسل کی مضبوط حمایت کا مظہر ہے۔
فو کانگ نے قرارداد کی منظوری کے بعد ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ قرارداد یوناما کے بنیادی فرائض کو برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کا کام کرتی ہے جن میں بین الاقوامی امداد میں ہم آہنگی، رابطہ کاری اور خیرسگالی کی خدمات کی فراہمی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو فروغ دینا شامل ہے جبکہ متروک یا غیر ضروری ذمہ داریوں کو ضرورت کے مطابق ختم کیا گیا ہے۔‘‘
فو کانگ نے کہا کہ اس سے یوناما کو اپنی اہم ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرنے، افغانستان کی زمینی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت کا بہتر جواب دینے اور بین الاقوامی برادری کے خدشات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
فو کانگ نے کہا کہ قرارداد میں افغانستان کی اقتصادی اور انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوناما کو بین الاقوامی برادری خصوصاً روایتی عطیات دہندگان کو مزید امداد فراہم کرنے کی ترغیب دینا جاری رکھنی چاہیے تاکہ افغانستان کو انسانی بحران سے نمٹنے، واپس لوٹنے والوں کی دوبارہ آبادکاری، اقتصادی بحالی، علاقائی تعاون کے فروغ اور خود انحصار ترقی کی صلاحیت مضبوط بنانے میں مدد مل سکے۔
فو کانگ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قرارداد میں یوناما سے افغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثوں تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ ممالک کو یہ اثاثے واپس کرنے چاہئیں اور افغانستان پر عائد غیر قانونی یکطرفہ پابندیاں ختم کرنی چاہئیں تاکہ ملک کی تعمیر نو اور ترقی کے لئے سازگار ماحول پیدا ہو سکے۔
فو کانگ نے کہا کہ قرارداد میں افغانستان میں انسانی حقوق، خصوصاً خواتین اور بچیوں کے حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش کا اعادہ کیا گیا ہے۔
سلامتی کونسل نے پیر کے روز متفقہ طور پر قرارداد 2822 منظور کرتے ہوئے یوناما کے مینڈیٹ میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے جو اب 17 جون 2027 تک برقرار رہے گا۔


