پاکستانی دستکاریوں اور خصوصی مصنوعات نے چین کے جنوب مغربی صوبہ یوننان کے شہر کونمنگ میں جاری دسویں چین جنوبی ایشیا ایکسپو (سی ایس این اے ایف) میں بھرپور مقبولیت حاصل کر لی ہے۔
اس چھ روزہ تقریب کے شرکا کا تعلق 68 ممالک، خطوں اور عالمی تنظیموں سے ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک کی 560 سے زائد کمپنیاں بھی اس نمائش میں حصہ لے رہی ہیں۔
جنوبی ایشیا پویلین میں نمایاں مقام کی حامل پاکستانی نمائش گاہ مسلسل مہمانوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہ نمائش گاہ چین اور پاکستان کے درمیان فروغ پاتے ہوئے اقتصادی و ثقافتی روابط کے تناظر میں مضبوط تجارتی کشش اور تعاون کے روشن امکانات کی عکاسی کرتی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): نصیر احمد، پاکستانی نمائش کنندہ
’’ہم پاکستان سے آئے ہیں اور جو بھی اشیاء اپنے ساتھ یہاں لائے ہیں وہ سب کی سب ہاتھ سے تیار کردہ پیتل کی مصنوعات ہیں۔ یہ اعلیٰ معیار کی پیتل کی دستکاریاں ہیں۔
یہ ایک معروف ایکسپو ہے اور ہم سال 2013 سے مسلسل اس میں شرکت کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے ہمیشہ نہایت گرمجوشی سے ہمیں خوش آمدید کہا۔ ہم سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ ہماری مصنوعات کو پسند کرتے ہیں اور ہر سال خریدتے ہیں۔ ہماری مصنوعات بہت اعلیٰ معیار کی ہوتی ہیں۔ہمیں آج تک کسی بھی گاہک کی طرف سے کوئی شکایت نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کاروبار کے لئے یہاں آتے رہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم رواں برس بھی فروخت کے اچھے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔
ساری دنیا مانتی ہے کہ چین دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہے اور عالمی سطح پر مینوفیکچرنگ کا اہم مرکز ہے۔ جہاں تک ہماری مصنوعات کا تعلق ہے ہمیں چین بھر کی منڈیوں سے ہمیشہ مثبت ردعمل ہی ملا۔
ہم دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی تاریخ بہت پرانی ہے جو ہماری زندگیوں سے بھی پہلے کی ہے۔ ایک کہاوت کے مطابق ہماری دوستی سمندر سے گہری اور پہاڑوں سے بلند ہے۔ ہم دلی طور پر امید کرتے ہیں کہ یہ قیمتی دوستی ماضی کی طرح آئندہ بھی یوں ہی پھلتی پھولتی رہے گی۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): کاشف بشیر، پاکستانی نمائش کنندہ
"میں پاکستان سے آیا ہوں اور میرا نام کاشف ہے۔ میرا تعلق ہاتھ سے بنے ہوئے اونی قالینوں کے کاروبار سے ہے۔ یہ میرا یہاں پہلا دورہ نہیں۔ میں گزشتہ دس برسوں سے ہر سال اس ایکسپو میں شرکت کر رہا ہوں۔ ہم پاکستانی ہاتھ سے تیار کردہ اونی قالین فروخت کرنے یہاں آتے ہیں اور ہمارا مجموعی تجربہ انتہائی شاندار رہا ہے۔”
کونمنگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


