تہران (لارڈ میڈیا): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مفاہمت کی یادداشت پر ابھی دستخط نہیں ہوئے ہیں اور شرائط یا متن میں تبدیلیاں ممکن ہیں۔ انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا عبوری معاہدے کا حصہ ہے، جب کہ جوہری مسائل پر بعد کے مراحل میں بات چیت کی جائے گی۔ عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے بعد ایران زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے اور کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
دوسری جانب، امریکی فوج نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ بیان کے مطابق، ایران نے تجارتی جہازوں پر متعدد یک طرفہ حملہ آور ڈرونز لانچ کیے۔


