بیت المقدس/تہران (شِنہوا) اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شام ایک ٹیلی فون کال کے دوران ایران کے ساتھ مذاکرات کے متعلق مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال کیا۔
بیان کے مطابق اگرچہ اسرائیل اس مفاہمتی یادداشت کا حصہ نہیں ہے، تاہم نیتن یاہو نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے کہ مذاکرات کے اختتام پر حتمی معاہدے میں ایران کے افزودہ مواد کو تلف کرنا، اس کی افزودگی کی تنصیبات کو ختم کرنا، میزائل پیداوار کو محدود کرنا اور خطے میں اس کی "دہشت گرد پراکسیوں” کی حمایت ختم کرنا شامل ہوگا۔
اس سے قبل جمعرات کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے جمعرات کی شام ایران پر طے شدہ حملوں اور بمباری کو مذاکرات میں پیش رفت کے باعث منسوخ کر دیا ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے ایک بہترین معاہدہ طے کیا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ آئندہ چند دنوں میں مکمل ہو سکتا ہے اور یورپ میں اس پر دستخط بھی ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم نے جمعرات کی رات ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران نے اس معاہدے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
بقائی نے کہا کہ مذاکرات کی نوعیت ابتدا سے ہمارے لئے واضح تھی اور متن کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی تیار ہو چکا تھا لیکن امریکی فریق مسلسل اپنے موقف تبدیل کرتا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔


