نیویارک (لارڈ میڈیا): فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے میچز کے دوران اسٹیڈیمز میں شدید گرمی اور حبس کے باعث تماشائیوں کو ہیٹ اسٹروک کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ برطانیہ کی پورٹسماؤتھ یونیورسٹی کے محققین نے ایک تحقیق میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ فیفا نے کھلاڑیوں کے لیے تو بہترین طبی سہولیات کا انتظام کیا ہے، لیکن تماشائیوں کے تحفظ کو نظرانداز کر دیا ہے۔
پورٹسماؤتھ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیک ٹپٹن کی سربراہی میں کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مڈ ایٹلانٹک اور میکسیکو کی گرمی اور نمی انسانی جسم پر شدید اثر ڈال سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق، ٹورنامنٹ کے ایک تہائی میچز شدید گرمی کی زد میں ہوں گے، خاص طور پر دوپہر اور سہ پہر کے وقت شیڈول میچز۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تماشائیوں کی پروفائل کھلاڑیوں سے مختلف ہوتی ہے، ان میں بچے، ضعیف العمر افراد اور پہلے سے بیمار لوگ شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ، دور دراز کے ممالک سے آنے والے شائقین پہلے ہی تھکن کا شکار ہو سکتے ہیں جس سے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
فیفا نے تنقید کے بعد شائقین کو اسٹیڈیم میں پانی کی بوتل لانے کی اجازت دے دی ہے اور اسٹیڈیمز کی انتظامیہ کو پانی چھڑکنے والے پنکھے لگانے اور سایہ دار جگہیں بنانے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں۔
پروفیسر مائیک ٹپٹن نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیڈیمز میں ‘کولنگ زونز’ قائم کیے جائیں، مفت پانی کی فراہمی کو بڑھایا جائے اور طبی عملے کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔


