ہومانٹرنیشنلکیوبا نے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا امریکی وزیر...

کیوبا نے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا امریکی وزیر خارجہ کا دعویٰ مسترد کر دیا

ہوانا (شِنہوا) کیوبا نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے کہ واشنگٹن جزیرے کو تیل کی ترسیل میں رکاوٹ نہیں ڈالتا اور اس امریکی اقدام کا حوالہ دیا جس کے تحت کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔

کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگویز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ روبیو بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی حکومت کیوبا کو تیل کی فراہمی نہیں روکتی۔

روڈریگویز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 29 جنوری کو دستخط کردہ ایگزیکٹو آرڈر 14380 کی جانب اشارہ کیا جو ان ممالک سے درآمدات پر تعزیری محصولات عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر کیوبا کو تیل فراہم کرتے ہیں۔

روڈریگویز کے مطابق کیوبا کے ساتھ تیل کی تجارت کرنے والا کوئی بھی ملک امریکی منڈی میں تجارتی انتقامی کارروائی کے خطرے سے دوچار ہوتا ہے۔

روڈریگویز نے سوال کیا کہ ’’کیا یہ کیوبا میں تیل کی آمد کو روکنا نہیں ہے؟ ‘‘ انہوں نے اس اقدام کو تیسرے ممالک کے خلاف معاشی دباؤ کی ایک شکل قرار دیا۔

کیوبا کے وزیر خارجہ امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے روبیو کے دیئے گئے بیان کا جواب دے رہے تھے جہاں امریکی وزیر خارجہ نے کیوبا کے توانائی بحران کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کے موقف کا دفاع کیا تھا۔

کیوبا اپنی مقامی ضروریات پوری کرنے کے لئے درآمدی ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کو معمول کے مطابق چلانے کے لئے ہر ماہ تقریباً 8 تیل بردار جہازوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں