ماسکو/کیف (شِنہوا) کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ اگر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو وہ کسی بھی وقت ماسکو آ سکتے ہیں۔
زیلنسکی نے جمعرات کو ایک خط جاری کیا تھا جس میں انہوں نے امن عمل پر بات چیت کے لئے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ براہ راست ملاقات کی تجویز دی جس میں یورپ اور امریکہ کی شمولیت بھی ہو۔
زیلنسکی نے خط میں لکھا تھا کہ یوکرین جنگ کو براہ راست رابطے کے ذریعے ختم کرنے کی تجویز دیتا ہے اور میں ایک ملاقات کی پیشکش کر رہا ہوں۔
انہوں نے ملاقات کے لئے ایک واضح تاریخ مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ مذاکرات کے دوران یوکرین مکمل جنگ بندی کے لئے تیار ہے۔
زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ سوئٹزرلینڈ، ترکیہ اور کچھ عرب ممالک ایسے مذاکرات کی میزبانی کے لئے آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔
پیسکوف نے کہا کہ کریملن نے اس خط کا جائزہ لیا ہے اور اس بارے میں صدر پوتن کو ان کی مصروفیت کے بعد آگاہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر پوتن نے کہا ہے کہ اگر زیلنسکی بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ ماسکو آ کر بات کر سکتے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے یوکرین تنازع کے حل کی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے پیسکوف نے کہا کہ روس نے امریکہ کے کردار کو کبھی مثالی نہیں سمجھا اور اس کی قومی ترجیحات ہمیشہ اولین رہتی ہیں۔


