تہران (لارڈ میڈیا): ایران اور روس کے درمیان جوہری شعبے میں تعاون کے لیے 25 ارب ڈالر کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے ہیں۔ یہ معاہدہ تہران کے ایٹمی ڈھانچے کو وسعت دینے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔
ماسکو میں منعقدہ آن لائن کانفرنس میں ایرانی سفیر کاظم جلالی نے کہا کہ ہرمز منصوبہ اور بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کی توسیع، ایران اور روس کے درمیان دو طرفہ تعاون کے اہم منصوبے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بوشہر پاور پلانٹ فعال ہے جبکہ اس کے مزید یونٹس زیر تعمیر ہیں۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے تیار ہونے والا ہرمز منصوبہ ایران کا سب سے بڑا ایٹمی منصوبہ ہے جو ایران کے نجی شعبے اور روس کی سرکاری ایٹمی کمپنی روساتوم کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے۔
سفیر نے چھوٹے پیمانے کے ایٹمی بجلی گھروں پر مشترکہ تعاون کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ منصوبے جلد عملی مرحلے میں داخل ہوں گے۔ انہوں نے روسی گیس کی ایران کے ذریعے ترسیل اور یوریشیائی ممالک کے ساتھ تجارت میں توسیع کو بھی تعاون کے شعبوں میں شامل کیا۔
آخر میں ایرانی سفیر نے روس کی سیاسی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور توانائی، ٹرانسپورٹ، جدید ٹیکنالوجیز اور معاشی ترقی میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔


