واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات "بہت اچھے انداز میں” آگے بڑھ رہے ہیں اور "موجودہ صورتحال میں” تہران اس بات پر آمادہ ہو گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایرانی حکام کے تعاون سے امریکی اہلکار ایران میں داخل ہو کر زیر زمین دفن جوہری مواد کو نکال سکیں گے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حاصل کرنا بہت، بہت مشکل ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
خطے میں حالیہ حملوں کے باوجود انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل کے اوائل میں نافذ ہونے والی جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاری مذاکرات کے دوران ممکن ہے کہ ایک عبوری معاہدہ "ہفتے کے آخر تک” طے پا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس خطے میں جنگ بندی دنیا کے دوسرے حصوں کی جنگ بندی سے بہت مختلف ہے۔ انہوں نے کہا آپ جانتے ہیں اس علاقے میں جنگ بندی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لڑائی تھوڑی کم شدت سے ہو رہی ہے۔
دریں اثنا ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام کئی بار اپنی رائے بدل چکے ہیں لیکن موجودہ صورتحال کے مطابق ہم جلد ہی کسی وقت وہاں داخل ہوں گے۔
سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایران کی بحری افواج نے آبنائے ہرمز میں "قواعد کی خلاف ورزیوں” اور ایرانی جہازوں کے خلاف مخاصمانہ کارروائیوں کے جواب میں خلیج عمان میں ایک امریکی ڈسٹرائر کے "کمانڈ سنٹر” کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
چند منٹ بعد امریکی سنٹرل کمانڈ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے ایکس پر جھوٹ قرار دیا۔


