ہومانٹرنیشنلبرطانیہ، بھارت تجارتی معاہدے میں انسانی حقوق نظرانداز کرنے پر تشویش

برطانیہ، بھارت تجارتی معاہدے میں انسانی حقوق نظرانداز کرنے پر تشویش

لندن (لارڈ میڈیا): برطانیہ اور بھارت کے مابین آزاد تجارتی معاہدے پر ہاؤس آف لارڈز میں ہونے والی بحث کے دوران لارڈ قربان حسین نے معاہدے میں انسانی حقوق کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا معاہدے میں انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق کوئی شق موجود ہے یا نہیں، جبکہ جانوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق دفعات شامل ہیں۔

لارڈ قربان حسین نے کہا کہ انسانی حقوق کی شق نہ ہونے کی صورت میں کیا برطانوی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ بھارت میں انسانی حقوق جانوروں کے حقوق سے کم اہم ہیں؟

حکومت کی جانب سے لارڈ لیونگ نے انسانی حقوق کے حوالے سے برطانیہ کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق ہر جگہ اہم ہیں اور برطانوی حکومت بین الاقوامی معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری جاری رکھے گی۔

لارڈ قربان حسین کی تشویش بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق خدشات کی عکاس ہے، جن میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی، شہری آزادیوں اور جموں و کشمیر کی صورتحال شامل ہیں۔

بحث کے دوران ان کے ریمارکس نے اجاگر کیا کہ اقتصادی اور تجارتی شراکت داریوں کے ساتھ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ یاد رہے کہ برطانیہ اور بھارت نے جولائی 2025 میں آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاہم یہ معاہدہ تاحال نافذ العمل نہیں ہوا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں