واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی حکومت بھارت سمیت 60 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی عالمی تجارت کے خلاف تحقیقات کے بعد تجویز کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بھارت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ان معیشتوں میں شامل ہے جہاں جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے قوانین ناکافی ہیں۔ بھارت کے علاوہ چین، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت دیگر ممالک پر بھی اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بھارتی حکومت نے امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں ہے اور مذاکرات جاری ہیں۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ ٹیرف ابھی حتمی نہیں ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ ٹیرف فوری طور پر نافذ نہیں ہوں گے۔ مجوزہ اقدامات پر 6 جولائی تک عوامی آراء طلب کی گئی ہیں جبکہ 7 جولائی کو باضابطہ سماعت ہوگی، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
امریکی تجارتی مذاکرات کار نئی دہلی میں بھارتی حکام کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، تاہم نئے ٹیرف سے ان مذاکرات پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔


