اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کھانے پینے کی بنیادی اشیاء پر ٹیکس میں کمی کا امکان نہیں ہے۔ حکام کے مطابق سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور دیگر محصولات برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے روزمرہ استعمال کی اشیاء مہنگی رہ سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ 2026 میں عام صارفین کو روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں فوری ریلیف ملنے کے امکانات محدود ہیں۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ چینی، گھی، کوکنگ آئل اور چائے پر 18 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھا جائے گا، جبکہ ادویات پر 1 فیصد ٹیکس بھی برقرار رہے گا۔
درآمدی چکن پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی اور اضافی ڈیوٹی نافذ رہے گی، جبکہ انڈوں پر کسٹمز ڈیوٹی برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
سبزیوں میں آلو پر 20 فیصد اور ٹماٹر و پیاز پر 5 فیصد ڈیوٹی برقرار رہے گی۔ گندم، چاول، اور آٹے پر بھی موجودہ کسٹمز ڈیوٹی برقرار رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیے گئے ہیں۔


