چین اور امریکہ کے نوجوانوں کے درمیان ثقافتی تبادلہ پروگرام 12 سے 24 مئی تک چین کے شمالی صوبے ہیبے کے شہر ہینگ شوئی میں منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں ہینگ شوئی یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سینٹرل میسوری کے اساتذہ اور طلبہ نمائندے شریک ہوئے۔
پروگرام کے دوران چینی اور امریکی شرکاءنے ہینگ شوئی اور بیجنگ کے تاریخی مقامات کی سیر بھی کی۔
انہوں نے ہینگ شوئی یونیورسٹی میں مختلف شعبہ جات سے متعلق سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا جن میں لیبارٹری تربیت، ثقافتی تجربات اور تعلیمی سیمینار شامل تھے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): فاریا جیکولین میری، فیکلٹی رکن، یونیورسٹی آف سینٹرل میسوری
”چین اور امریکہ کے نوجوانوں کو ایک دوسرے کی ثقافتی علامتوں سے کہیں زیادہ چیزوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ وہ مختلف ممالک سے آئے ہیں لیکن نوجوان نسل کو موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی اور سماجی مساوات جیسے عالمی مسائل کے حوالے سے یکساں تشویش لاحق ہے۔ ایک معلمہ کے طور پر میں امید کرتی ہوں کہ اس طرح کے تبادلے جاری رہیں گے جن سے مزید امریکی طلبہ کو چین آنے اور حقیقی روابط کے ذریعے دوستی قائم کرنے کا موقع مل سکے گا۔“
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): برمن گیلیا رائلی، طالبہ، یونیورسٹی آف سینٹرل میسوری
” تاریخی مقامات پر گھومنے اور مقامی ثقافت کا تجربہ کرنے سے چین کے بارے میں میرا تصور کتابوں سے نکل کر حقیقت میں بدل گیا ہے۔ دلدلی علاقوں کے تحفظ، موسمیاتی اقدامات اور روزمرہ طرزِ زندگی کی بات کریں تو ہمیں ایک جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔ باجود اس کے کہ ہم انہیں اپنے اپنے انداز میں حل کرتے ہیں۔ اس تجربے نے میرا یہ یقین پختہ کیا کہ چینی اور امریکی نوجوان ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔“
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): گین دُو، طالبہ، ہینگ شوئی یونیورسٹی
” اس سے پہلے ہم عمر امریکی نوجوانوں کے بارے میں میری سمجھ صرف فلموں اور سوشل میڈیا تک محدود تھی۔ اس تبادلے نے مجھے احساس دلایا کہ حقیقی رابطہ آمنے سامنے ملاقات سے پیدا ہوتا ہے۔ دوستی کے لئے بڑے بیانیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ایک ساتھ کھانا کھانے،آپس میں بات چیت کرنے اور ایک دوسرے سے اپنی کہانیاں شیئر کرنے کے ہر لمحے میں موجود ہوتی ہے۔“
ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): ما یون یان، ڈائریکٹر، دفتر بین الاقوامی امور، ہینگ شوئی یونیورسٹی
” ہماری دونوں جامعات کئی برسوں سے تعاون برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے ہم امید کرتے ہیں کہ چینی اور امریکی نوجوان حقیقی اور بالمشافہ رابطوں کے ذریعے باہمی سمجھ بوجھ اور دوستی کو فروغ دے سکیں گے۔“
ہینگ شوئی، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


