ایک ساؤتھ افریقن صنعتی تنظیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ زیرو ٹیرف کے حوالے سے چین کے آئندہ اقدامات جنوبی افریقہ کی پیکن صنعت میں زیادہ یقین اور اعتماد پیدا کریں گے اور یہ دونوں ممالک کےلئے باہمی فائدے کی پالیسی ثابت ہوگی۔
ساؤتھ افریقن پیکن نٹ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (ایس اے پی پی اے) کے جنرل منیجر کوبس وین رینسبرگ نے یہ بات جمعہ کے روز کیپ ٹاؤن سے تقریباً 60 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع شہر پارل میں تنظیم کے دفتر میں شِنہوا کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
چین یکم مئی سے 53 افریقی ممالک سے درآمدات پر زیرو ٹیرف پالیسی نافذ کرنے جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ جنوبی افریقہ کے پیکن پر موجودہ 7 فیصد ڈیوٹی کم ہو کر صفر ہو جائے گی۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): کوبس وین رینسبرگ، جنرل منیجر، ساؤتھ افریقن پیکن نٹ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن
"ہم اس حوالے سے بہت پُرجوش ہیں۔ صنعتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ رسد کے پورے سلسلے کے لئے نہایت اہم ہے۔ میرا خیال ہے کہ ٹیرف میں کمی سے رسد کے ہر مرحلے پر فوائد حاصل ہوں گے۔ اس سے خاص طور پر سپلائی اور طلب دونوں پہلوؤں سے تحفظ میں اضافہ ہوا۔ ٹیرف میں کمی جنوبی افریقہ اور چین کے درمیان بہترین تعلق کی باعث بنی ہے۔ اب جنوبی افریقہ کو ایک اور فائدہ یہ بھی ہو گا کہ چین کی جانب سے طلب بڑھ جائے گی کیونکہ ٹیرف کم ہو گیا ہے۔ اس وقت عالمی منڈیوں میں خاص طور پر ٹیرف کے حوالے سے خاصی غیر یقینی پائی جاتی ہے، یہ اقدام کسی حد تک استحکام پیدا کرے گا۔”
پیکن کی پیداوار کے لحاظ سے جنوبی افریقہ اس وقت دنیا کا تیسرا بڑا جبکہ جنوبی نصف کرے میں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ پیکن کی زیادہ تر پیداوار برآمد کرتا ہے اور چین اس کی سب سے بڑی منڈی ہے۔
وین رینسبرگ نے بتایا کہ جنوبی افریقہ کے 90 فیصد سے زائد پیکن چین کو برآمد کئے جاتے ہیں اور اس بات نے اسے ایک انتہائی اہم منڈی حیثیت دی ہے۔
ایس اے پی پی اےکے مطابق جنوبی افریقہ نے سال 2025 میں چین کو 47597 ٹن چھلکے سمیت پیکن برآمد کئے۔ یہ کل پیداوار کا 94.7 فیصد اور چھلکے سمیت برآمد کا 99.3 فیصد بنتے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): کوبس وین رینسبرگ، جنرل منیجر، ساؤتھ افریقن پیکن نٹ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن
"ہمارے ہاں بہت زیادہ دھوپ ہوتی ہے اور اس سے دانے بھرپور اور بہتر تیار ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم عام طور پر چین کو 55 فیصد یا اس سے زیادہ دانوں کے تناسب کے ساتھ پیکن فراہم کرتے ہیں اور یہی ہماری چین کو جانے والی اہم برآمدی مصنوعات ہے۔ چین میں پیکن کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ میں گزشتہ تین برسوں سے اس شعبے سے وابستہ ہوں۔ اس دوران یہ طلب تقریباً 40 ہزار ٹن سے بڑھ کر 70 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیکن کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔”
مارکیٹنگ اور برانڈ سازی کی کوششوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اسی ماہ کے آغاز میں ہی وین رینسبرگ نے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے چین کے مشرقی صوبہ انہوئی کے دارالحکومت ہیفے میں منعقد ہونے والی 19 ویں نٹس اینڈ ڈرائیڈ فروٹ فوڈ نمائش میں شرکت کی تھی۔ نمائش میں جنوبی افریقہ کے پیکن کو متعارف کراتے ہوئے مشترکہ برانڈنگ کے مواقع تلاش کئے گئے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): کوبس وین رینسبرگ، جنرل منیجر، ساؤتھ افریقن پیکن نٹ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن
"یہ یقینی طور پر دونوں کے لئے فائدہ مند صورتحال ہے۔ ہم مستقبل اور چین میں ہونے والی ترقی کے حوالے سے بہت پرامید ہیں۔ چین تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور آگے بڑھ رہا ہے۔ جنوبی افریقہ کے لئے یہ ایک بڑا اعزاز ہے کہ وہ اس ترقی کا حصہ بنے اور چین کو محدود مقدار میں مصنوعات فراہم کرے تاکہ اس ترقی کے عمل میں اس کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکے۔”
کیپ ٹاؤن، جنوبی افریقہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


