سیم ریپ، کمبوڈیا (شِنہوا) شمال مغربی کمبوڈیا میں واقع یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل انگ کور آرکیالوجیکل پارک میں کمبوڈیا-چین مارشل آرٹس پرفارمنس کا انعقاد کیا گیا، جس نے مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
مفت داخلے پر مبنی یہ تقریب مشہور بائیون ٹیمپل کے شمالی حصے میں منعقد ہوئی، جس میں کمبوڈیا کے روایتی مارشل آرٹس بوکاٹور، یوتھا کن کھوم اور کن خمر باکسنگ کے ساتھ ساتھ شاؤلین کنگ فو اور تائی چی سمیت چینی مارشل آرٹس کی شاندار مشترکہ پرفارمنس پیش کی گئی۔
اس شاندار تقریب میں شاؤلین ٹیمپل سے تعلق رکھنے والے 16 چینی راہبوں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمبوڈیا کے وزیر سیاحت ہوت ہاک نے کہا کہ یہ پرفارمنس کمبوڈیا-چین سیاحتی سال کی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد مشترکہ ثقافتی ورثے کو فروغ دینا، ثقافتی روابط کو مضبوط کرنا اور عوامی سطح پر روابط کو مزید قریب لانا ہے۔
وزیر کے مطابق اس تقریب میں ایک ہزار سے زائد مقامی اور بین الاقوامی ناظرین نے شرکت کی۔
ہوت ہاک نے بتایا کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں چین کمبوڈیا آنے والے بین الاقوامی سیاحوں کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا، جہاں 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد چینی سیاح اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک کا رخ کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "کمبوڈیا مزید چینی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کا خیرمقدم کرنے کا خواہاں ہے۔ کمبوڈیا کی سیاحت کا مستقبل چینی سیاحوں اور سرمایہ کاری کے بغیر ممکن نہیں۔”

کمبوڈیا کے صوبہ سیم ریپ میں واقع انگ کور آرکیالوجیکل پارک میں منعقدہ کمبوڈیا-چین مارشل آرٹس پرفارمنس کے دوران کمبوڈیا کے روایتی مارشل آرٹس کے فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
پیسیفک ایشیا ٹریول ایسوسی ایشن کے کمبوڈیا چیپٹر کے چیئرمین تھورن سینان نے کہا کہ یہ مشترکہ مارشل آرٹس شو چینی سیاحوں میں کمبوڈیا کے سیاحتی مقامات کے فروغ کے لئے نہایت اہم ہے۔
کمبوڈیا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنس کے چین-آسیان سٹڈیز سینٹر کے نائب ڈائریکٹر تھونگ مینگ ڈیوڈ نے کہا کہ یہ تقریب محض ثقافتی مظاہرے تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر علامتی اور سفارتی اثرات بھی ہیں۔


