واشنگٹن (شِنہوا) ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ موجودہ جنگ بندی کے باعث قانونی طور پر مقررہ 60 دن کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی ’’ختم‘‘ ہو چکی ہے۔
امریکی میڈیا نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ جنگی اختیارات کی قرارداد کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس جمعہ تک کا وقت تھا کہ وہ اس تنازع کو جاری رکھنے کے لئے کانگریس سے منظوری حاصل کریں یا اسے ختم کریں جبکہ انہیں اس مدت میں مزید 30 دن کی توسیع کا اختیار بھی حاصل تھا۔
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی کشیدگی امریکہ اور ایران کے درمیان اس قانون کے تحت ختم ہو چکی ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان 7 اپریل کو شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا اور بعد میں اس جنگ بندی میں توسیع بھی کی گئی۔
جمعرات کے اوائل میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس کی ایک سماعت کے دوران موقف اختیار کیا کہ ان کے خیال میں جنگ بندی کانگریس سے جنگ کی منظوری کے لئے مقررہ 60 روزہ مدت کا حساب روک یا معطل کر دیتی ہے۔
اس پر ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین نے جواب دیا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ یہ قانون اس کی حمایت کرتا ہے، میرا خیال ہے کہ 60 دن شاید کل ختم ہو جائیں اور یہ انتظامیہ کے لئے ایک اہم قانونی سوال پیدا کرے گا۔‘‘
جمعرات کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران میں امریکی فوجی کارروائی ختم کرنے کے حق میں ووٹ دینے والے ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز نے کہا کہ ’’یہ ڈیڈ لائن کوئی تجویز نہیں بلکہ ایک لازمی تقاضا ہے۔‘‘
وائٹ ہاؤس نے 2 مارچ کو ایران کے خلاف فوجی مہم کے بارے میں کانگریس کو مطلع کیا تھا جس کے مطابق جمعہ 60 دن کی مدت کی تکمیل کا دن بنتا ہے، جب تک کہ صدر کانگریس کی منظوری حاصل نہ کر لیں انہیں جنگ کو ختم کرنے کا عمل شروع کرنا ہوگا۔


