بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت تجارت نے پیر کے روز کہا ہے کہ یورپی یونین (ای یو) کا انڈسٹریل ایکسیلیریٹر ایکٹ (آئی اے اے) سرمایہ کاری کے لئے سنگین رکاوٹیں پیدا کرتا ہے اور ادارہ جاتی امتیاز کے مترادف ہے۔
وزارت کے ترجمان نے کہا کہ یہ قانون ابھرتی ہوئی چار تزویراتی صنعتوں یعنی بیٹریوں، الیکٹرک گاڑیوں، شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی اور اہم خام مواد میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر متعدد پابندیاں عائد کرتا ہے اور اس میں سرکاری خریداری اور حکومتی امدادی پالیسیوں میں یورپی چیزوں کو ترجیح دینے کی شرط بھی شامل ہے۔
وزارت نے یورپی کمیشن کو باضابطہ طور پر اپنا موقف پیش کردیا ہے جس میں اس قانون پر چین کے شدید خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
چین نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس قانون پر پسندیدہ ترین ملک کا درجہ اور قومی سلوک سمیت بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کا شبہ ہے۔ یہ چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے اور یہ یورپی یونین کی ماحول دوست منتقلی کے عمل کو سست کرے گا جبکہ یورپی منڈی میں منصفانہ مسابقت کو نقصان پہنچائے گا۔
چین نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ اس قانون سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خلاف امتیازی شرائط، مقامی مواد کی شرائط، لازمی تخلیقی ملکیت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی شرائط اور سرکاری خریداری کی پابندیاں ختم کرے۔
ترجمان نے کہا کہ چین قانون سازی کے عمل پر گہری نظر رکھے گا اور یورپی یونین کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اگر یورپی یونین چین کے موقف کو نظر انداز کرتے ہوئے اس قانون کو نافذ کرتی ہے اور اس سے چینی کمپنیوں کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے تو چین اپنے کاروباری اداروں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے جوابی اقدامات کرے گا۔


