واشنگٹن (شِنہوا) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی میں خلل نے ایشیا میں توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
آئی ایم ایف کے ایشیا وبحرالکاہل شعبہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر تھامس ہیلبلنگ نے شِنہوا کو بتایاکہ میرا خیال ہے کہ اس جھٹکے نے توانائی کے تحفظ سے متعلق خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے ایشیا و بحرالکاہل کے لئے گزشتہ ہفتے جاری ہونےوالی تازہ علاقائی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق ایشیا کی معاشی ترقی کی شرح 2025 میں 5 فیصد سے کم ہو کر 2026 میں 4.4 فیصد اور 2027 میں 4.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں تیل اور گیس کا استعمال مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 4 فیصد ہے جو یورپ کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ ملائیشیا اور تھائی لینڈ جیسے ممالک میں یہ شرح 10 فیصد سے بھی زیادہ ہے جہاں ٹرانسپورٹ اور صنعت کا کردار زیادہ ہے۔
ہیلبلنگ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کئی ایشیائی معیشتوں کے لئے تیل کی فراہمی کا بڑا ذریعہ ہے تاہم توانائی کے ذرائع میں تنوع یعنی کسی ایک ذریعہ پر انحصار کم کر کے توانائی کے مختلف ذرائع کو بڑھانا ایشیا کی طویل مدتی توانائی سلامتی کو مضبوط بنا سکتا ہے۔


