کونمنگ (شِنہوا) چین، جو طویل عرصے سے چائے نوش قوم کے طور پر جانا جاتا ہے، حالیہ برسوں میں وہاں کافی کی ثقافت میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے اور شہروں میں جگہ جگہ کیفے کھل رہے ہیں۔ اسی دوران ایک نیا ہائبرڈ رجحان نوجوان صارفین کی توجہ حاصل کر رہا ہے، جس میں چائے اور کافی کو ملا کر تیار کئے جانے والے مشروبات شامل ہیں۔
چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے شہر کونمنگ میں "شانگ شان ہیچا” نامی ایک ڈرنک شاپ نے اپنی مخصوص ‘را پوئر لیٹے’ کی وجہ سے توجہ حاصل کی ہے جو قدیم چائے کے درختوں سے تیار کی جاتی ہے۔ صارفین اس مشروب کو حیرت انگیز طور پر تازگی بخش اور ذائقے سے بھرپور قرار دیتے ہیں جہاں چائے کی خوشبو کافی کی گہرائی کے ساتھ گھل مل جاتی ہے۔
عالمی سطح پر کافی کلچر عموماً تیاری کے طریقوں یا جغرافیے سے پہچانا جاتا ہے، جیسے اطالوی ایسپریسو، ترک کافی یا ویتنامی ڈرپ، جو ظاہر کرتا ہے کہ مختلف ممالک نے ایک غیر مقامی مشروب کو اپنی منفرد ثقافتی علامت میں ڈھال لیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک "چینی کافی” کا کوئی واضح اور وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ تصور سامنے نہیں آیا لیکن دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی کافی مارکیٹوں میں سے ایک ہونے کے ناطے چین جدت کے ذریعے اپنے منفرد راستے کی تلاش میں سرگرم ہے۔
2010 سے چین میں کافی کے استعمال میں سالانہ اوسطاً 15 فیصد سے زیادہ کی شرح سے اضافہ ہوا ہے جو کہ تقریباً 2 فیصد کی عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ ملک بھر میں کافی سے متعلق 2 لاکھ 50ہزار سے زیادہ کاروباروں کے ساتھ یہ مارکیٹ تیزی سے متحرک ہو رہی ہے۔ کافی میں روایتی چینی چائے کے عناصر کو شامل کرنا نہ صرف صارفین کی نئی چیزوں کی تلاش کو پورا کرتا ہے بلکہ ثقافتی شناخت کے احساس کو بھی تقویت دیتا ہے۔
صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چائے اور کافی میں قدرتی طور پر کچھ چیزیں مشترک ہیں، دونوں میں کیفین ہوتی ہے اور یہ جسم میں توانائی پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں۔ ان کا ملاپ ذائقوں کی ایسی تہیں پیدا کرتا ہے جو کسی بھی ایک مشروب کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور دلچسپ حسی تجربہ فراہم کرتا ہے اور یہی اس رجحان کی مقبولیت کے پیچھے کلیدی عوامل میں سے ایک ہے۔

چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے شہر کونمنگ میں ایک گاہک کافی شاپ میں کافی پی رہی ہے۔(شِنہوا)
ذائقے سے ہٹ کر بدلتے ہوئے استعمال کے انداز بھی اس ترقی کو فروغ دے رہے ہیں۔ کچھ کیفے روایتی چائے خانوں کے طرز تعمیر اور جمالیات کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں، جہاں چینی ثقافتی عناصر سے مزین ماحول میں جدید مشروبات پیش کئے جاتے ہیں جو سوشل میڈیا کی دلدادہ نسل کو اپنی جانب راغب کر رہے ہیں۔ مارکیٹنگ کے نئے تصورات جیسے کہ "صبح کافی، شام چائے” صارفین کی عادات کو مزید یکجا کر رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ چائے اور کافی کا یہ امتزاج چین میں بڑھتے ہوئے معیار زندگی اور بڑھتے ہوئے ثقافتی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ کافی اب ایک روزمرہ کا مشروب بنتی جا رہی ہے جبکہ چائے کی ثقافت کو ایک جدید اور فیشن ایبل انداز میں دوبارہ متعارف کروایا جا رہا ہے۔
جیسے جیسے مصنوعات کی تیاری میں ترقی ہو رہی ہے اور صارفین کی قبولیت بڑھ رہی ہے توقع ہے کہ چائے اور کافی کا یہ ملاپ مزید مقبولیت حاصل کرے گا۔ اجزا کے حصول اور تیاری کے طریقوں سے لے کر برانڈنگ اور ثقافتی کہانیوں تک یہ ابھرتی ہوئی کیٹیگری ایک مکمل اور پختہ شعبے کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو عالمی مشروبات کی دنیا میں ایک مخصوص چینی ذائقہ متعارف کروائے گی۔


