’آرٹ بازل‘ ایک طویل عرصے سے مہنگی پینٹنگز، نایاب مواد اور مشہور تخلیق کاروں کی نمائش کے لئےمشہور ہے۔ رواں برس دنیا کے اس معروف آرٹ میلے کا ہانگ کانگ ایڈیشن مارچ کے آخر میں اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر ایک سادہ اور پُرسکون نمائش نے ناظرین کی ایک بڑی تعداد کو وہاں رکنے اور فن پاروں کو بغور دیکھنے پر مجبور کر دیا۔
بوتھ کے اندر کوئی دکھاوا یا بناوٹ نہیں تھی۔ یہاں صرف ہانگ کانگ کے ضلع تائی پو میں واقع پائن ہِل گاؤں کے درختوں، پتھریلے مکانات، گاڑیوں اور لوگوں کو لکیروں اور نرم رنگوں کے ذریعے نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا تھا۔
ذہنی معذوری کا شکار یہ فنکار ہانگ کانگ کی ہانگ چی ایسوسی ایشن کے طلبہ ہیں۔ یہ تنظیم ذہنی معذوری میں مبتلا افراد اور ان کے خاندانوں کی خدمت کے لئے بنائی گئی ہے۔ تنظیم کے چیئرمین ایڈورڈ یاؤ ان طلبہ کو پیار سے "ہمارے دوست” کہہ کر پکارتے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): ایڈورڈ یاؤ، چیئرمین، ہانگ چی ایسوسی ایشن
"عالمی سطح کی بہت سی بڑی نمائشیں ہمارے اِن دوستوں کی شرکت کے بغیر نا مکمل رہتی ہیں۔عام طور پر معاشرے میں لوگوں کی توجہ خصوصی ضروریات یا ذہنی معذوری کے حامل افراد کی کمزوریوں پر ہوتی ہے لیکن مصوری اور موسیقی فن کے وہ شعبے ہیں جہاں ان افراد کی اصل طاقت اور صلاحیتیں سامنے آتی ہیں۔”
ہانگ چی کے طلبہ مسلسل تین برسوں سے ’آرٹ بازل‘ کے عالمی پلیٹ فارم پر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پہلے دو برس ان کے فن پارے کیفے ایریا میں رکھے گئے تھے۔ سال 2026 میں انہوں نے ’آرٹ بازل‘ کے باضابطہ ثقافتی شراکت دار کے طور پر شرکت کی۔ "فن پاروں کی سرگوشیاں” کے عنوان سے اُن کی پیش کردہ ایک الگ اور بھرپور نمائش میں تعصب اور تنگ نظری سے آزاد زندگی کے خاکے پیش کئے گئے۔
ٹیم کو اس نمائش کی تیاری میں چھ ماہ لگے۔ منظرکشی اور خاکہ نگاری کے حوالے سے ہانگ کانگ کے معروف فنکار سٹیفن وانگ چُون ہی کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نےہانگ چی کے 15 فنکاروں کو پائن ہِل گاؤں کی کھلی فضا میں خاکہ سازی کی مشق کے پانچ سیشنز میں براہِ راست رہنمائی فراہم کی۔
29 مارچ کو ایک شیئرنگ سیشن کے دوران رواں برس کے ’آرٹ بازل‘ کا سب سے جذباتی لمحہ سامنے آیا۔ یہ کوئی تیار شدہ تقریر تھی نہ ہی کوئی ریہرسل کئے گئے جملے ۔ سٹیج پر کھڑے چند فنکار اپنے برش کے ساتھ سادہ لفظوں میں اپنی کہانیاں بیان کر رہے تھے۔
26 سالہ طالبہ ٹونگ زِی چِنگ نے کٹھل کے درخت کی پینٹنگ کو اپنے لئے ایک یادگار ترین لمحہ قرار دیا۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (کینٹونیز): ٹونگ زِی چِنگ، طالبہ
"ایسا کیوں ہے کہ کٹھل درختوں پر اُگتے ہیں۔ کچھ صرف درخت عام ہوتے ہیں مگر چند دوسرے درختوں پر کٹھل اُگ آتے ہیں۔ مجھے یہ پینٹنگ بنانا بہت حیرت انگیز اور دلچسپ لگا۔”
انٹرویو کے دوران ایڈورڈ یاؤ بار بار ہانگ چی کے طلبہ کے بارے میں مسلسل "ہمارے دوست” کہہ کر بات کرتے رہے۔ ان کے نزدیک یہ سب دوست ایک جیسے، باوقار اور باصلاحیت ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): ایڈورڈ یاؤ، چیئرمین، ہانگ چی ایسوسی ایشن
"شاید ہمارے دوست دل کے معاملے میں زیادہ پُرخلوص ہیں اور وہ دنیا کو عام لوگوں سےمختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ یہی بات انہیں خاص مقام عطا کرتی ہے۔ اپنی منفرد سوچ، اپنے ہاتھوں اور برش کے ذریعے وہ اپنی اندرونی دنیا کو سامنے لا سکتے ہیں۔ اس طرح ان کے حوالے سے ہمارا فہم مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ مزید برآں اُن کی فطری صلاحیتیں انہیں معاشرے میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہیں۔”
فن کی نمائشوں میں حصہ لینے کے علاوہ ہانگ چی نے طلبہ کے فن پارے مارکیٹ میں پیش کرنے کے لئے نیلام گھروں کے ساتھ بھی تعاون کیا ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ یہ فن پارے جمع کرنے کے لائق ہیںٍ اور ان کے تخلیق کار قابلِ احترام ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): ایڈورڈ یاؤ، چیئرمین، ہانگ چی ایسوسی ایشن
"مجھے یقین ہے کہ یہ دروازہ کھل چکا ہے۔ مستقبل میں مزید عالمی سطح کے کامیاب مواقع بھی آئیں گے جہاں ہمارے بچے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہ ایک نیا پلیٹ فارم ہے لیکن یہ سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہو گا۔”
ہانگ کانگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
ہانگ کانگ میں آرٹ بازل کے دوران ذہنی معذور افراد کے فن پارے پیش
ہانگ چی ایسوسی ایشن کے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں نے شرکا کو حیران کر دیا
درختوں، پتھریلے مکانات، گاڑیوں اور عوامی مناظر کی خوبصورت منظرکشی کی گئی
چیئرمین ہانگ چی ایسوسی ایشن نے طلبہ کو پیار سے "ہمارے دوست” کہہ کر پکارا
ایڈورڈ یاؤ کے نزدیک طلبہ کی اصل طاقت مصوری اور موسیقی میں ہے
رواں برس طلبہ نے اپنی تخلیقات کو "فن پاروں کی سرگوشیاں” کا عنوان دیا
شیئرنگ سیشن میں فنکاروں نے سادہ الفاظ میں اپنی کہانیاں سنائیں
طالبہ ٹونگ زِی چِنگ نے کٹھل کے درخت کی پینٹنگ کو یادگار لمحہ قرار دیا
فن پارے نیلام گھروں کے تعاون سے مارکیٹ میں متعارف کرائے جائیں گے


